مضامین بشیر (جلد 3) — Page 192
مضامین بشیر جلد سوم 192 پاکستان میں انگریز کی حکومت کے خاتمہ پر بعض لوگ جنہیں حقیقتا ابنائے وقت کہا جا سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ پر یہ اعتراض کرنے لگ گئے ہیں کہ آپ نے نعوذ باللہ حکومت برطانیہ کی خوشامد کا طریق اختیار کیا۔اور آپ کی جماعت نے اس کی سنگینوں کے سایہ میں پرورش پائی۔اور اس اعتراض کو اس کثرت کے ساتھ اور اس دھوکہ دہی کے رنگ میں دہرایا جاتا ہے کہ بعض اچھے بھلے سمجھدار لوگ بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔مکرم در دصاحب کو خدا جزائے خیر دے کہ انہوں نے اس اعتراض کا پول کھول کر اور اس کا ایک دندان شکن جواب دے کر وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ اس رسالہ کے ذریعہ ملک میں ذہنی طمانیت اور باہم اعتماد اور اتحاد کا دروازہ کھولا گیا ہے۔دراصل یہ اعتراض دو باتوں کے نظر انداز کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ایک بات تو یہ ہے کہ جس پس منظر اور پیش آمدہ حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ تحریرات لکھیں۔جن کی بناء پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے۔اسے اعتراض کرنے والے لوگ نظر انداز کر کے اور ان تحریرات کو ان کے پس منظر سے کاٹ کر پیش کرتے ہیں۔اور یہ وہی دھو کے کا طریق ہے جسے اسلام کے خلاف مسیحی اور آریہ سماجی استعمال کر رہے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ اعتراض کرنے والے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان کلمات کو تو دیکھتے ہیں جو حضور نے انگریز کے قیام امن اور آزادی ضمیر کے پیش نظر سیاسی رنگ میں تحریر فرمائے ہیں مگر ان زبر دست تحریرات کو بھول جاتے ہیں جو آپ نے مذہبی رنگ میں انگریز کے باطل خیالات کو کچلنے اور ان کے دجل اور بطلان کا کھنڈن کرنے کے لئے سپرد قلم کی ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ان دو اصولی باتوں کو مد نظر رکھ کر حضرت مسیح موعود کی تحریرات کا جائزہ لیا جائے تو نہ صرف ان میں کوئی بات قطعاً قابل اعتراض نظر نہیں آتی۔بلکہ یہ ایک عظیم الشان خدمت ثابت ہوتی ہے جو آپ نے پیش آمدہ حالات میں اسلام اور مسلمانوں کی انجام دی۔محررہ 19 دسمبر 1954 ء) روزنامه الفضل لاہور 21 نومبر 1954 ء)