مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 193 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 193

مضامین بشیر جلد سوم احمدیت کی ترقی کے متعلق شبہات کا ازالہ الہی سلسلوں میں جلال و جمال کے الگ الگ مسلک 193 جب میں گزشتہ ایام میں لاہور میں بیمار تھا اور میری میزان حیات کے پلڑے اوپر نیچے ہو رہے تھے تو اس وقت اس محبت اور اخلاص کے جذبات کی وجہ سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل خدا تعالیٰ نے جماعت کے قلوب میں پیدا کر رکھے ہیں۔لاہور اور دیگر مقامات کے کثیر التعداد دوست میری عیادت کے لئے تشریف لاتے تھے۔اور میں انہیں دیکھ دیکھ کر یا ان کی آمد کی اطلاع پا کر ( کیونکہ اکثر احباب ڈاکٹری ہدایت کے ماتحت باہر سے ہی طبیعت پوچھ کر اور مجھے اپنی دعاؤں کا ہدیہ دے کر واپس چلے جاتے تھے ) اپنے دل میں اس منظر سے روحانی سرور حاصل کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ظلیت میں لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَ اللَّهَ الَّفَ بَيْنَهُمُ (الانفال: 64) کا عظیم الشان معجزہ دکھایا ہے اور حسن ز بصرہ بلال از جبش صہیب از روم کو ایک چھت کے نیچے جمع کر کے حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر محبت اور اتحاد کی روحانی کڑیوں سے باندھ دیا ہے۔اسلام اور احمدیت کے خطرات ان ایام میں جب مجھے کسی قدرا فاقہ ہوا تو بعض دوست میرے پاس تشریف لاکر متفرق مذہبی امور پر گفتگو بھی فرماتے تھے اور میں اپنی سمجھ اور طاقت کے مطابق ان کے سوالوں کا جواب دے دیا کرتا تھا۔ان سوالوں میں سے ایک سوال جس کا بعض نوجوان دوستوں نے بار بار ذ کر کیا وہ جماعت کی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ان عزیزوں نے اس بات کے متعلق تشویش کا اظہار کیا کہ جماعت احمدیہ کو قائم ہوئے ستر سال ہونے کو آئے ہیں مگر ابھی تک اس کی کامیابی اور غلبہ کے کوئی خاص آثار ظاہر نہیں ہوئے بلکہ بعض لحاظ سے مشکلات بڑھتی جاتی ہیں۔اور دنیا میں چاروں طرف باطل خیالات اور مادی نظریات کا اتنا زور ہے اور دجالی فتنوں نے ایسا غلبہ پایا ہوا ہے کہ ان مہیب اور عالمگیر طوفانوں کے مقابلہ پر احمدیت کی چھوٹی سی کشتی کا بس اللہ ہی حافظ ہے۔اور بظاہر یہ بات تصور میں نہیں آسکتی کہ یہ مٹھی بھر غریب اور کمزور جماعت جو سینکڑوں قسم کی اندرونی اور بیرونی مشکلات میں گھری ہوئی ہے اپنے ماحول کے عظیم الشان خطرات پر کس طرح غالب آئے