مضامین بشیر (جلد 3) — Page 90
مضامین بشیر جلد سوم فضا کو مکۃ رنہ کرو۔90 (3) کہا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے رکن چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے خود اپنے ہاتھوں سے گورداسپور کا ضلع ہندوستان کے سپر د کر دیا۔اس کے جواب میں اعتراض کرنے والوں کی حالت پر اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے۔دنیا جانتی ہے کہ چوہدری صاحب موصوف کو اس کام پر خود قائد اعظم مرحوم نے مقرر کیا تھا۔اور پھر ہزاروں مسلمانوں اور ہندوؤں اور سکھوں کے سامنے چوہدری صاحب نے قائد اعظم کی ہدایات کے مطابق مسلمانوں کی نمائندگی کی اور اس قابلیت کے ساتھ مسلمانوں کی طرف سے بحث کی کہ اپنوں اور بیگانوں نے انہیں غیر معمولی خراج تحسین ادا کیا۔یہ کارروائی روزانہ قائد اعظم مرحوم کے پاس پہنچتی تھی اور گورنمنٹ کے دفاتر میں اس کی نقل جاتی تھی اور روزانہ اخباروں میں چھپتی تھی اور سینکڑوں مسلمان اس کارروائی کو اپنے کانوں سے سنتے اور آنکھوں سے دیکھتے تھے۔چنانچہ بحث کے اختتام پر چوہدری صاحب کی بے انتہا تعریف کی گئی اور ان کی خدمات کو بے حد سراہا گیا۔مثلاً چوہدری صاحب کے کام کے متعلق اسی زمانہ میں ایک اسلامی اخبار نے لکھا کہ حد بندی کمیشن کا اجلاس ختم ہوا۔۔۔چار دن چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب نے مسلمانوں کی طرف سے نہایت فاضلانہ اور نہایت معقول بحث کی۔کامیابی بخشا خدا کے ہاتھ میں ہے مگر جس خوبی اور قابلیت کے ساتھ سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے مسلمانوں کا کیس پیش کیا۔اس سے مسلمانوں کو اتنا اطمینان ضرور ہو گیا کہ ان کی طرف سے حق وانصاف کی بات نہایت مناسب اور احسن طریقہ سے ارباب اختیار تک پہنچادی گئی ہمیں یقین ہے کہ پنجاب کے سارے مسلمان بلالحاظ عقیدہ ان کے اس کام کے معترف اور ہے۔شکر گزار ہوں گے (اخبار نوائے وقت لاہور مورخہ یکم اگست 1947 ء) یہ تو اس زمانہ میں پبلک کی رائے تھی۔لیکن آج اتنے سال گزر جانے کے بعد ان کے متعلق بغیر کسی ثبوت اور بغیر دلیل کے بے وفائی اور غداری کا الزام لگایا جا رہا ہے۔تعصب کا ستیا ناس ہو۔بے انصافی کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے۔پھر چوہدری صاحب نے نہ صرف عام پاکستانی کیس کو نہایت قابلیت کے ساتھ پیش کیا بلکہ (کشمیر کے آنے والے خطرات کے پیش نظر ) گورداسپور کے متعلق خاص طور پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہئے اور اعداد و شمار اور دلائل سے ثابت کیا کہ وہ ایک مسلم اکثریت کا ضلع ہے اور دوسرے مسلم علاقوں کے ساتھ ملتا بھی ہے۔اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ اسے پاکستان سے کاٹ کر ہندوستان