مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 954 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 954

مضامین بشیر ۹۵۴ کرسکیں گے اور مخالفت کا خطرہ نہیں رہے گا مگر خدا فرماتا ہے کہ یہ ایک خطر ناک طریق ہے اور جو شخص ایسا کرتا ہے وہ دراصل خدا کا پیغام پہنچاتا ہی نہیں بلکہ صرف اپنے نفس کی بات پہنچا تا ہے۔خدا کے پیغام کے متعلق تو تب سمجھا جائے گا کہ وہ پہنچا دیا گیا کہ جب انسان بلا خوف لومة لائم ساری بات پہنچائے ورنہ یہ ایسا ہی ہے کہ ایک ماہر ڈاکٹر کسی مریض کے لئے ایک نسخہ تحریر کرے لیکن دوائی دینے والا شخص جو طب کے علم سے ناواقف ہے اس نسخہ کی بعض دوائیوں کو حذف کر کے گویا ایک نیا نسخہ ہی تجویز کر دے مگر افسوس ہے کہ آجکل بعض مبلغ اپنی طبیعت کی کمزوری یا اپنے ماحول کے نا واجب رعب کی وجہ سے ساری کی ساری صداقت کو پہنچانے سے ڈرتے اور گریز کرتے ہیں اور خدا کے با برکت نسخہ کو بدل کر امید رکھتے ہیں کہ ہم خود اپنے جاہلا نہ نسخہ سے مریض کو اچھا کر لیں گے۔هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ وو تبلیغ کی ساتویں شرط اس حکیمانہ آیت میں بیان کی گئی ہے کہ : يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُونَ 10 یعنی اے مومنو تم ایسی باتوں کے دعوے دار کیوں بنتے ہو جن پر تم خود عمل نہیں کرتے۔خدا کے نزدیک یہ طریق نہایت درجہ نا پسندیدہ ہے کہ تم ایسی باتوں کے 66 دعوے کرو جن پر تمہارا اپنا عمل نہیں۔“ اسی آیت میں مبلغین اسلام کو اسی زریں اصول کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جب وہ کسی علاقہ میں مبلغ بن کر جائیں تو انہیں چاہئیے کہ جو تعلیم وہ لوگوں تک پہنچاتے ہیں ، اس کا عملی نمونہ بھی پیش کریں ور نہ ان کی تبلیغ ایک نمائش سے زیادہ حقیقت نہیں رکھے گی اور ہر عقلمند انسان یہی خیال کرے گا کہ یہ ایک صرف منافقانہ تبلیغ ہے جس کے اندر کچھ بھی حقیقت نہیں۔پس ہر مبلغ کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ اپنی تبلیغ کا عملی نمونہ پیش کرے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ یعنی اے مسلما نو ہمارا یہ رسول تمہارے سامنے اس تعلیم کا بہترین نمونہ پیش کر رہا ہے جو وہ ہماری طرف سے لے کر آیا ہے۔پس جہاں تم اس کی باتوں کو سنو اور مانو وہاں تمہارا یہ بھی فرض ہے کہ تم اپنے اعمال بھی اس کے اعمال کے مطابق بناؤ۔“