مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 955 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 955

۹۵۵ مضامین بشیر حق یہ ہے کہ اگر قولی تبلیغ کے ساتھ مبلغ کا ذاتی نمونہ شامل نہ ہو تو اس کی تبلیغ ایک مردہ اور بے جان لاش سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی جو لوگوں کی کشش کا باعث ہونے کی بجائے یقیناً ان کے دلوں میں دوری اور بیزاری پیدا کرنے کا موجب بن جائے گی اور وہ اسے ایک سینما شو سے زیادہ حقیقت نہیں دیں گے۔الغرض قرآن شریف اسلامی تبلیغ کے لئے سات سنہری اصول بیان فرماتا ہے یعنی :۔(1) تبلیغ میں ایسے عقلی دلائل اور دانائی کی باتوں سے کام لیا جائے جو ایک طرف حق و صداقت پر مبنی ہوں۔اور دوسری طرف ان میں فریق ثانی کے عقائد اور خیالات کو بھی ملحوظ رکھا جائے تا کہ بیماری کے مطابق صحیح علاج تجویز ہو سکے۔(۲) تبلیغ میں عقلی دلائل کے علاوہ ایسی جذباتی دلیلیں بھی شامل کی جائیں جو تبشیر وانذار اور ترغیب و تربیب کے پہلو سے تعلق رکھتی ہوں تا کہ مخاطب اس بات کو محسوس کرے کہ اسے ایک ایسی صداقت کی طرف بلایا جا رہا ہے جسے قبول کرنا خود اس کی اپنی زندگی اور ترقی کے لئے ضروری ہے اور جسے رڈ کرنا خود اس کے اپنے نقصان اور خسارہ اور روحانی موت کا باعث ہے۔(۳) اگر فریق ثانی کے ساتھ بحث کی صورت پیدا ہو جائے تو اس میں نا واجب مخاصمت کا رنگ بالکل نہ آنے دیا جائے بلکہ صرف معقول اور باوقار تبادلہ خیالات تک اپنے آپ کو محدود رکھا جائے اور اگر دوسرے فریق کی طرف سے ضد اور کج بحثی کا طریق اختیار کیا جائے تو مبلغ کو چاہیے کہ صداقت کے لئے سلامتی چاہتے ہوئے اس مجلس کو چھوڑ دے۔(۴) مجادلہ کی صورت میں دلائل کی تعداد بڑھانے کے لئے خواہ نخواہ رطب و یابس دلیلوں کا ذخیرہ نہ جمع کیا جائے بلکہ صرف ایسی پختہ اور مضبوط دلیلیں پیش کی جائیں۔( خواہ وہ تھوڑی ہوں ) جو ہر جہت سے احسن ہوں تا کہ فریق ثانی کمزور دلیلوں سے ناجائز فائدہ اٹھا کر صداقت پر پردہ نہ ڈال سکے۔(۵) تبلیغ میں مداہنت کا رنگ بالکل نہیں ہونا چاہئے بلکہ صاف صاف بات کی جائے اور قبول کرنے کے فوائد اور انکار کرنے کے نقصانات واضح طور پر بتا دیئے جائیں تا کہ فریق ثانی کو حقیقت کے سمجھنے اور اس کی اہمیت کو محسوس کرنے میں آسانی ہو اور وہ قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے تو کوئی بات کھول کر بتائی ہی نہیں گئی۔(۶) اپنے مخاطبین کے انکار سے ڈر کر یا ماحول سے مرعوب ہو کر یا خود اپنی واہ واہ کی غرض سے یہ نہ کیا جائے کہ خدائی پیغام کا وہ حصہ تو پہنچا دیا جائے جس کے متعلق خیال ہو کہ اسے فریق ثانی آسانی