مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 953 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 953

۹۵۳ مضامین بشیر پانچویں شرط قرآن شریف ایک دوسری آیت میں پیش فرماتا ہے جو یہ ہے: مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَاغُ الْمُبِينُ 10 یعنی صداقت کے پیغام بر پر صرف پیغام کا پہنچا نا ہی فرض نہیں بلکہ اس کا یہ بھی فرض ہے کہ یہ پیغام واضح اور غیر مشکوک الفاظ میں کھلے کھلے طور پر پہنچائے۔“ اس قرآنی آیت میں تبلیغ کی یہ شرط بیان کی گئی ہے کہ ایک مبلغ کو صداقت کے پہنچانے میں ایسا رنگ ہرگز نہیں اختیار کرنا چاہئیے جس میں یا تو مداہنت کی صورت پائی جائے یا انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو کر یا فریق ثانی کے غلط خیالات کا نا واجب لحاظ کرتے ہوئے گول مول بات کر جائے۔حتی کہ مخاطب کو اس بات کا احساس ہی نہ پیدا ہو کہ اسے کسی ایسی اہم صداقت کی طرف بلایا جا رہا ہے جس کا قبول کرنا اس کے لئے زندگی اور اس کا رڈ کرنا موت کے مترادف ہے۔کیونکہ یہ طریق نہ صرف حق کی اشاعت کے لئے روک بن جاتا ہے بلکہ بسا اوقات بالواسطہ طور پر باطل خیالات کی تقویت کا بھی موجب ہو جاتا ہے اور اس کی وجہ سے جو زنگ خود مبلغ کے دل پر لگتا ہے۔وہ مزید براں ہے اسی لئے خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ : فَاصْدَعُ بِمَا تُؤْمَرُ یعنی اے رسول جو پیغام ہم نے تجھے دیا ہے اسے خوب کھول کھول کر لوگوں تک پہنچا اور اس کے پہنچانے میں کسی قسم کا پردہ نہ رکھ۔“ اس کے بعد تبلیغ کی چھٹی شرط قرآن شریف اس آیت میں بیان فرماتا ہے کہ : يَايُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ زَيْكَ وَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رسالته ۱۹۸ و یعنی اے رسول لوگوں تک وہ سا را پیغام پہنچا جو تیرے رب نے تیرے سپرد کیا ہے اور اگر تو ایسا نہیں کرے گا (یعنی کچھ حصہ پیغام کا پہنچائے گا اور کچھ نہیں پہنچائے گا تو خدا کے نزدیک تو اس کے پیغام کو پہنچانے والا نہیں سمجھا جائے گا۔“ اس اہم آیت میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ایک مبلغ کا یہ فرض ہے کہ سارے کا سا را پیغام پہنچائے اور ایسا نہ کرے کہ لوگوں کی مخالفت کا خیال کر کے یا اپنی واہ واہ کرانے کے لئے بعض باتوں کا ذکر ترک کر دے۔بعض مبلغوں میں یہ کمزوری ہوتی ہے کہ وہ اس بات سے ڈر کر کہ شاید فلاں تعلیم میرے مخاطبین کو اچھی نہ لگے بعض باتوں کو ترک کر دیتے ہیں اور صرف ایسی باتیں زبان پر لاتے ہیں جن کے متعلق انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں کے ذریعہ اپنے مخاطبین کو خوش