مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 952 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 952

مضامین بشیر ۹۵۲ تدبر سے انہیں حل کیا جا سکتا ہے۔بہر حال مجادلہ کے لفظ میں قرآن شریف نے تبلیغ کی تیسری شرط کی طرف اشارہ کیا ہے۔یعنی یہ کہ تبلیغ کرتے ہوئے کبھی بے جا مخاصمت اور نا واجب جھگڑے کا رنگ نہ پیدا کیا جائے بلکہ مناسب اور معقول تبادلہ خیالات کی صورت تک محدود رہنا چاہیئے ورنہ ضد اور سطحیت کے سوا کوئی اور نتیجہ نہیں نکلے گا۔اسی لئے دوسری جگہ قرآن شریف فرماتا ہے کہ إِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلما یعنی سچے مومنوں کا یہ طریق ہوتا ہے کہ جب انہیں جاہل لوگ نا واجب بحث میں الجھانا چاہیں تو وہ صداقت کے لئے سلامتی چاہتے ہوئے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔“ چوتھا لفظ اوپر کی آیت میں احسن ہے جس کے معنے عربی زبان میں بہترین چیز کے ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ اگر منکرِ صداقت کے ساتھ ایک مبلغ کے لئے مبادلہ کی صورت پیدا ہو جائے تو پھر اس مبادلہ میں بہترین دلائل سے کام لینا چاہیے نہ کہ رطب و یابس کے ذخیرہ سے دلائل کی تعداد بڑھانے کی کوشش کی جائے۔کئی لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ مخالف فریق سے بات کرتے ہوئے اپنے دلائل کی تعداد بڑھانے کے شوق میں رطب و یابس کا طومار جمع کرتے جاتے ہیں اور ایسا کرنے میں کچھ تو ان کے اپنے نفس کا دخل ہوتا ہے جو دلائل کی کثرت میں گویا اپنے لئے فخر کا سامان دیکھتا ہے اور کچھ واعظ یہ خیال کرتے ہیں کہ شائد اس طرح فریق ثانی مرعوب ہو کر خاموش ہو جائے گا لیکن نتیجہ عموماً الٹ نکلتا ہے کیونکہ ہوشیار مخالف فورا اس موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مضبوط دلیلوں کی طرف سے آنکھیں بند کر کے صرف کمزور دلیل کا رڈ کر دیتا ہے اور اس طرح بعض اوقات اسے باطل پر ہونے کے باوجود ایک جزوی اور وقتی کامیابی میسر آجاتی ہے۔اس لئے ہمارا حکیم وعلیم خدا تاکید فرماتا ہے کہ تم مجادلہ میں خواہ نخواہ دلائل کی کثرت کا خیال نہ کیا کرو بلکہ صرف ایسی دلیلیں استعمال کیا کرو جو ہر جہت سے احسن ہوں تا کہ دوسرے فریق کو تمہاری بحث کے کمزور حصہ سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ظاہر ہے کہ اگر ایک مبلغ دلائل کی کثرت کے خیال کو ترک کر کے اپنے آپ کو صرف پختہ اور مضبوط دلیلوں تک محد و در کھے۔جنہیں قرآن شریف نے احسن کے لفظ سے یاد کیا ہے تو منکر صداقت کو کبھی اس کی ان دلیلوں پر حملہ کرنے اور انہیں غلط ثابت کرنے کی جرات نہیں ہو سکتی اور اگر وہ ملمع سازی کے رنگ میں اس کی جرأت کرے گا تو دنیا کی نظروں میں اپنے آپ کو خود ذلیل کرے گا۔وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ آتی۔پس کامیاب تبلیغ کے لئے چوتھی ضروری شرط قرآن شریف یہ بیان کرتا ہے۔کہ مبلغ کی ہر دلیل جسے وہ مخالفوں کے سامنے پیش کرے ہر جہت سے احسن ہونی چاہئیے تا کہ اس کے خلاف باطل کو سراٹھانے کی جرات ہی نہ ہو۔اسی طرح احسن کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ صرف دلیلیں ہی احسن نہ ہوں بلکہ ان کے پیش کرنے کا پیرا یہ بھی احسن ہونا چاہئے۔کئی مبلغ پختہ دلیل رکھتے ہوئے اپنے غلط پیرایہ کی وجہ سے وقتی طور پر زک اٹھا جاتے ہیں۔۹۵