مضامین بشیر (جلد 2) — Page 934
مضامین بشیر ۹۳۴ سامنے قربانی کرائے۔چنانچہ کتاب الفقہ میں امام ابو حنیفہ کا مذہب ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ :- ان يذبح بيده ان كان يعرف الذبح والا شهرها بنفسه ويامر غيرها 29 د یعنی قربانی کرنے والے کو چاہئے کہ اگر وہ ذبح کرنا جانتا ہے تو خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرے ورنہ دوسرے سے ذبح کراتے ہوئے قربانی کے وقت خود موجود ہو۔“ یہ وہ عظیم الشان سبق ہیں جو قربانیوں کے حکم میں مسلمانوں کو سکھائے گئے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ آج کل کے بعض نو تعلیم یافتہ لوگ جو اسرار شریعت سے بالکل نا واقف ہیں اور ہر چیز کو مادی عینک کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں قربانیوں کی حکمت اور ان کی غرض وغایت کو سمجھنے کے بغیر شور مچارہے ہیں کہ ان قربانیوں کو مٹا کر ان کی جگہ نقد امداد کا نظام قائم کر دیا جائے۔گویا ان کے خیال میں اسلام میں مال کی قربانی کا نظام تو قائم رہے مگر جان کی قربانی کا جذ بہ ختم کر دیا جائے اور شریعت کے آدھے دھڑ کو مفلوج کر کے انسان کی اخلاقی اور روحانی تربیت کا شیرازہ اس طرح بکھیر دیا جائے کہ اسے پھر مجتمع ہونے کی طاقت نہ رہے۔اس حالت پر اس کے سوا کیا عرض کیا جائے کہ : گر ہمیں مكتب کار طفلاں تمام ہمیں ملا خواہد شد ایک اور جواب اس سوال کا یہ بھی ہے کہ جب ہمارا یہ ایمان ہے کہ اسلامی شریعت ہمارے علیم و حکیم خدا کی نازل کردہ ہے جو ہر قسم کی انسانی ضرورتوں اور ان ضرورتوں کے پورا کرنے کے مناسب طریقوں کو سب سے بہتر جانتا ہے اور ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اسلام کی شریعت دائمی اور غیر مبدل ہے تو اس صورت میں ہمارا کیا حق ہے کہ ہم اس کے حکموں میں اپنے خیال سے تبدیلیاں کرتے پھریں اور اس طرح شریعت کو نعوذ باللہ انسانوں کے تخیل کا کھلونہ بنا دیں۔بے شک جہاں خود شریعت حالات کی رعایت ملحوظ رکھتی ہو وہاں یہ رعایت ضرور مد نظر کھی جائے گی۔مثلاً شریعت نے نماز سے پہلے وضو کا حکم دیا ہے مگر ساتھ ہی فرمایا دیا ہے کہ اگر پانی نہ ملے یا وضو کرنے سے بیمار ہو جانے کا ڈر ہو تو وضو کو ترک کر کے تیتم کرلو۔اسی طرح مثلاً شریعت نے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے مگر ساتھ ہی یہ رعایت رکھ دی ہے کہ اگر بیمار ہوتو بیٹھ کر نماز پڑھ لو یا شریعت نے رمضان کے روزے فرض کئے ہیں لیکن اس حکم کے ساتھ یہ بھی صراحت کر دی ہے کہ اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو تو رمضان کے روزے ترک کر کے دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لو وغیرہ وغیرہ۔یہ سب صورتیں بالکل جائز اور ہمارے دین متین کا حصہ ہیں مگر کوئی شخص یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ شریعت نے عید اضحی کی قربانی کے معاملہ میں بھی اس قسم کی کوئی رعائت دی ہو۔پس جب شریعت نے یہ رعائت نہیں دی اور شریعت دائگی اور ابدی ہے تو کسی شخص کو کیا حق پہنچتا