مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 935 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 935

۹۳۵ مضامین بشیر ہے کہ اپنی طرف سے شریعت کے احکام میں دخل دے کر کوئی نیا رستہ تجویز کرے۔مگر جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں ایک رعائت اسلام نے قربانیوں کے معاملہ میں بھی ضرور دی ہے اور یہ رعائت لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ( خدا انسان پر صرف اسی قدر ذمہ داری ڈالتا ہے جو اس کی طاقت کے اندر ہو ) کے سنہری اصول کے ماتحت دی گئی ہے اس رعائت کا مقصد یہ ہے کہ صرف وہی لوگ قربانی کریں جن کی مالی حالت اس کی اجازت دے۔غیر مستطیع لوگوں پر جو قربانی کی طاقت نہیں رکھتے یہ بوجھ کسی صورت میں نہیں ڈالا گیا اور قربانی کے گوشت کے بہتر سے بہتر استعمال کے لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ خود بھی کھاؤ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھی دو، اپنے ہمسایوں کو بھی ہدیہ بھجوا دو اور اپنے محلہ کے غریب اور مفلس لوگوں میں بھی تقسیم کرو تا کہ جانی قربانی کے سبق کے علاوہ اس عید کی خوشی میں جس طرح تمہاری روحیں حصہ لیتی ہیں اسی طرح تمہارے جسم بھی حصہ لیں اور تمہارے عزیز اور ا قارب اور غریب ہمسائے بھی۔اور عبادت کے اجر میں جسم کا حصہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ جب عبادت اور خدمت دین کے کام میں جسم اور روح دونو پر بوجھ پڑتا ہے تو یہ خدائے رحیم و حکیم کی رحمت سے بعید ہے کہ وہ عبادت کی ادائیگی میں تو جسم اور روح دونو پر بوجھ ڈالے مگر اس کے اجر میں جسم کو محروم کر دے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے جہاں عیدوں کے روحانی پہلو پر زور دیا ہے وہاں آپ نے یہ حکیمانہ الفاظ بھی فرمائے ہیں کہ : ايام التشتريق ايام اکل و شرب و ذکر الله _ د یعنی اے مسلما نو عید کے ایام میں اپنے جسموں کا بھی حق ادا کیا کرو اور انہیں دوسرے ایام کی نسبت زیادہ بہتر اور زیادہ سیر کن کھانا دو کیونکہ ذکر الہی کے ساتھ ساتھ یہ دن تمہارے کھانے پینے کے بھی دن ہیں“ اللہ اللہ ہمارا آقا کتنا شفیق و مہربان ہے کہ اس نے انسانی اعمال کا بدلہ دیتے ہوئے اس کے ذاتی جسم کے حق کو بھی فراموش نہیں کیا اور کس دانشمندی کے ساتھ فرمایا ہے کہ جہاں تم عید کے دن نمازیں پڑھو دعائیں کرو اور ذکر الہی میں وقت گزار و وہاں اپنے جسموں کو بھی ان خاص ایام میں خاص کھانا دے کر زیادہ راحت پہنچاؤ کیونکہ وہ بھی تمہاری دینی خدمت میں تمہاری روحوں کے مددگار رہے ہیں اور ان کا حق کسی صورت میں نظر انداز نہیں ہونا چاہئیے اور پھر صرف خود ہی نہ کھاؤ بلکہ اپنے غریب بھائیوں کو بھی دوتا یہ نہ ہو کہ تمہارے گھر میں تو گوشت کی دیگیں چڑھیں اور تمہارے غریب ہمسائے ایک لقمہ اور ایک بوٹی تک کو ترسیں۔یہ مضمون میرے اندازہ سے زیادہ لمبا ہو گیا ہے مگر اسے ختم کرنے سے قبل ایک آخری سوال کا