مضامین بشیر (جلد 2) — Page 933
۹۳۳ مضامین بشیر کئے گئے ہیں کیونکہ یہ دونوں قربانیاں فطرت انسانی کے لئے بنیادی چیزیں ہیں۔اگر اسلام صرف مال کی قربانی پر زور دیتا یا اگر وہ صرف جان کی قربانی پر زور دیتا تو اس ادھورے پروگرام کے ماتحت تربیت پانے والے لوگ یقیناً ایسے ہوتے کہ ان کا آدھا دھڑ تو تندرست اور تر و تازہ ہوتا اور باقی آدھا دھڑ کمزور اور لاغر ہونے کی وجہ سے نیم مردہ نظر آتا اور یہ لوگ قومی امتحانوں کے زمانہ میں یقیناً کچے دھاگوں سے بہتر ثابت نہ ہوتے۔پس اسلام نے کمال حکمت سے ان دونوں قسم کی تربیت کو اہمیت دے کر ان کی طرف یکساں توجہ دی ہے۔اس نے مسلمانوں سے مالی قربانی بھی کرائی ہے اور جانی قربانی کی تربیت کے لئے بھی مناسب احکام صادر کئے ہیں۔اور اسی مضمون کی طرف اوپر کی آیتوں میں اشارہ کیا گیا ہے تا کہ یہ بتایا جائے کہ حقیقی جنت انسان کو صرف اس صورت میں مل سکتی ہے خواہ وہ دنیا کی جنت ہو یا دین کی جنت) کہ جب وہ مالی اور جانی دونوں قسم کی قربانی پیش کرے اور قوموں کی ترقی کا بھی اس دہری قربانی کے سوا کوئی اور ذریعہ نہیں۔انہیں لازماً جانی اور مالی ہر دو قسم کی قربانیوں کی بھٹی میں سے گزرنا پڑتا ہے۔تب جا کر ان کا پودا پروان چڑھتا ہے۔پس اسلام نے جو عید الاضحی کے موقعہ پر جانوروں کی قربانی مقرر فرمائی ہے۔اس میں یہی گہری غرض مدنظر ہے کہ تا اس ذریعہ سے مسلمانوں کو جانی قربانی کی طرف توجہ دلائی جائے اور یہ غرض عید الاضحیٰ کی قربانی سے ہمیں اس طرح حاصل ہوتی ہے۔( اول ) اس طرح کہ اس قربانی کے ذریعہ حضرت اسمعیل کی قربانی کی یا د زندہ ہوتی اور تازہ رہتی ہے۔جنہوں نے اپنا جسم اور اپنی روح دو نو خدا کی راہ میں قربان کر دیئے اور پھر اس قربانی کے نتیجہ میں خدا نے محمد رسول اللہ صلعم جیسا مبارک ثمر پیدا کیا۔( دوم ) اس طرح کہ مسلمانوں کو اس ذریعہ سے توجہ دلائی جائے کہ جس طرح یہ بھیٹر میں اور یہ بکریاں اور یہ اونٹ اور یہ گائیں جو انسانوں کی ملکیت ہیں اور ان کی جانیں انسان کے فائدہ کی خاطر قربان ہوتی ہیں۔اسی طرح انسان کو بھی جو اشرف المخلوقات ہے چاہیے کہ وہ بھی ضرورت کے وقت اپنی قوم اور اپنے دین اور اپنے خالق و مالک خدا کی خاطر قربان ہونے کے لئے تیار رہے اور وقت آنے پر کچا دھاگہ ثابت ہونے کی بجائے لبیک لبیک کہتا ہوا آگے آجائے۔( سوم ) اس طرح کہ جانوروں کے ذبح ہونے کا نظارہ دکھا کر مسلمانوں کے دلوں میں سے خوف اور دہشت کے ان دقیق جذبات کا استیصال کیا جائے جو اکثر گوشت نہ کھانے والی قوموں کے اندر پیدا ہو کر ان کی کمزوری کا موجب بن جاتے ہیں اور اسی لئے اسلام نے اس بات کی تحریک کی ہے کہ حتی الوسع قربانی کرنے والا خود اپنے ہاتھ سے قربانی کرے اور کم از کم کسی خاص مجبوری کے سوا اپنے