مضامین بشیر (جلد 2) — Page 932
مضامین بشیر ۹۳۲ پوشیدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔یہ استدلال اور بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دوسری عید یعنی عید الفطر کے موقعہ پر فطرانہ کی صورت میں غلہ یا نقد روپے کی تقسیم کا نظام قائم فرمایا ہے تو جب آپ عید الفطر کے موقعہ پر غلہ یا نقدی کا نظام جاری فرما سکتے تھے تو آپ کے لئے اس بات میں کیا روک تھی کہ عید الاضحیٰ کے موقعہ پر بھی یہی نظام جاری فرما دیتے ؟ پس دونوں عیدوں کے انفاق کے طریق میں ایک بین اور نمایاں فرق قائم کرنا اس بات کی قطعی اور یقینی دلیل ہے۔کہ خواہ ہمیں سمجھ آئے یا نہ آئے یہ امتیاز بہر حال کسی خاص مصلحت کی بناء پر قائم کیا گیا ہے۔وهو المراد فافهم وتدبرو لا تكن من الممترين یہ تو اس سوال کا ایک اصولی جواب تھا۔حقیقی جواب یہ ہے کہ ہماری شریعت جو ایک دائمی اور عالمگیر شریعت ہے اور حکیم وعلیم ہستی کی طرف سے آئی ہے۔فطرت انسانی کے سارے پہلوؤں کی تربیت کو ملحوظ رکھتی ہے اور گوتربیت انسانی کے بیسیوں پہلو ہیں مگر فطرت انسانی اور شریعت کے بغور مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ تربیت کے مختلف پہلوؤں میں سے شریعت نے دو پہلوؤں کو زیادہ اہمیت دی ہے اور یہ دو پہلو مال اور جان کی قربانی سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ یہ دو پہلو حقیقہ ایک جڑھ کے حکم میں ہیں۔جس سے آگے دوسری شاخیں پھوٹتی ہیں۔روحانی اور اخلاقی تربیت کے ان دو پہلوؤں کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے : إنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ LL د یعنی خدا تعالیٰ نے مومنوں کی جانیں ( النفس کے لفظ میں اپنی جان اور اپنے متعلقین کی جانیں ہر دو شامل ہیں ) اور ان کے مال اس شرط کے ساتھ خرید لئے ہیں کہ وہ انہیں اس کے بدلہ میں جنت عطا کرے گا۔“ اور دوسری جگہ فرماتا ہے کہ : فَضَّلَ اللهُ المُجْهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَعِدِينَ دَرَجَةً یعنی خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ذریعہ خدا کے راستہ میں کوشش کرتے رہتے ہیں ان لوگوں پر بھاری درجہ عطا کیا ہے جو ( صرف ذاتی نماز روزہ میں مصروف رہ کر ) بیٹھے رہتے ہیں۔پس مال اور جان کی قربانی اور ان قربانیوں کے لئے مومنوں کی تربیت کا انتظام اسلامی تعلیمات کا ایک اہم ترین حصہ ہے اور حق یہ ہے کہ یہ وہ وسیع میدان ہیں جس میں اسلام کی تمام قربانیاں مختلف صورتوں میں چکر لگاتی ہیں اور اسلام کے بیشتر احکام انہی دو قسم کی قربانیوں کی تربیت کے لئے نازل