مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 931 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 931

۹۳۱ مضامین بشیر عید الاضحی کی قربانیاں کیا غیر حاجیوں کے لئے بھی قربانی ضروری ہے؟ کیا قربانی کی جگہ غرباء میں نقد روپی قسیم کر دینا جائز نہیں ؟ اس سوال کا جواب پہلی قسط میں گزر چکا ہے کہ کیا عید الاضحی کے موقعہ پر قربانی صرف حاجیوں کے لئے مقرر ہے یا کہ اسے طاقت رکھنے والے غیر حاجیوں کے لئے بھی ضروری قرار دے گیا ہے۔اب میں اس بحث کے دوسرے سوال کو لیتا ہوں یعنی یہ کہ اگر عید الاضحیٰ کے موقعہ پر غیر حاجیوں کی قربانی کا ثبوت ملتا بھی ہو تو پھر بھی کیا موجودہ زمانہ کے حالات کے لحاظ سے یہ مناسب نہیں کہ جانور قربان کر کے ضائع کرنے کی بجائے غریبوں میں نقد روپیہ تقسیم کر دیا جائے جو کئی قسم کی ضرورتوں میں ان کے کام آ سکتا ہے؟ سو اس کے متعلق اصولی طور پر تو صرف اس قدر جاننا کافی ہے کہ نقد روپے کی صورت میں غریبوں کی امداد کرنا موجودہ زمانہ کی ایجاد نہیں ہے بلکہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اس کا طریق موجود اور معلوم تھا اور خود قرآن شریف میں بھی جا بجا اس قسم کی امداد کی تحریک پائی جاتی ہے تو جب یہ طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی موجود تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کئی موقعوں پر استعمال بھی فرمایا تو ہر عقل مند انسان آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ جب شارع علیہ السلام بلکہ خود ذات باری تعالیٰ نے عید اضحی کے موقعہ پر نقد روپے یا غلہ ( جو آسانی سے نقدی میں منتقل کیا جا سکتا ہے ) کی تقسیم کی بجائے قربانی کا نظام قائم کر کے قربانیوں کی تاکید فرمائی۔حالانکہ ان کے سامنے نقد روپے اور غلہ وغیرہ کی تقسیم کا طریق موجود تھا تو لا محالہ اس طریق کے اختیار کرنے میں کوئی خاص مصلحت سمجھی جائے گی ورنہ ایک زیادہ معروف اور زیادہ سہل طریق کو چھوڑ کر قربانی کا طریق کیوں اختیار کیا جاتا ؟ پس یہ فرق اور یہ امتیاز ہی اس بات کی دلیل ہے کہ قربانی کا نظام مقرر کرنے میں خدا اور اس کے رسول کے سامنے کوئی خاص غرض مد نظر تھی اور پھر یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ خدا کے سامنے صرف زمانہ کے حالات تھے اور اسے موجودہ زمانہ کے حالات پر اطلاع نہیں تھی کیونکہ خدا عالم الغیب ہے اور یقینا کسی زمانہ کا کوئی امر اس سے