مضامین بشیر (جلد 2) — Page 920
مضامین بشیر ۹۲۰ عید الاضحی کی قربانیاں کیا غیر حاجیوں کے لئے بھی قربانی ضروری ہے؟ کیا قربانی کی جگہ غرباء میں نقد روپیہ تقسیم کرنا جائز نہیں ؟ ایک معزز دوست جو جماعت احمدیہ میں شامل نہیں ہیں ، خط کے ذریعہ دریافت فرماتے ہیں کہ آج کل اخباروں میں جو عید الاضحی کے موقعہ پر قربانی کا مسئلہ زیر بحث ہے، اس میں صحیح اسلامی تعلیم کیا ہے اور قرآن شریف اور حدیث اور سنت سے کون سا مسلک درست ثابت ہوتا ہے یعنی :۔(1) کیا عید الاضحیٰ کے موقعہ پر قربانی صرف حاجیوں کے لئے مقرر ہے یا کہ اسے مستطیع غیر حاجیوں کے واسطے بھی ضروری قرار دیا گیا ہے؟ (۲) کیا موجودہ زمانہ کے حالات کے لحاظ سے یہ مناسب نہیں کہ قربانی میں لا تعداد جانوروں کو ذبح کر دینے کی بجائے غرباء کی نقد امداد کر دی جائے ؟ یہ وہ دوسوال ہیں جن کی طرف ہمارے دوست نے توجہ دلائی ہے اور جن پر آج کل جبکہ عید الاضحی کی آمد آمد ہے، پاکستان کے اخباروں میں خوب بحث ہو رہی ہے۔ایک طبقہ جو زیادہ تر نو تعلیم یافتہ لوگوں پر مشتمل ہے اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اوّل تو غیر حاجیوں پر عید الاضحیٰ کی قربانی واجب ہی نہیں بلکہ قربانی صرف حاجیوں کے لئے مقرر ہے اور اگر بالفرض غیر حاجیوں پر قربانی واجب بھی ہو تو پھر بھی آج کل کے مخصوص حالات میں جبکہ ایک طرف پاکستان میں جانوروں کی کمی ہو رہی ہے اور دوسری طرف انسانی ضروریات میں زیادہ وسعت اور زیادہ تنوع کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔دو تین دنوں میں بے شمار جانور ذبح کر کے بانٹ دینے کی بجائے بہتر صورت یہ ہے کہ ذی استطاعت لوگ غریبوں میں روپیہ تقسیم کر دیں تا کہ وہ یہ روپیہا اپنی اپنی مخصوص ضرورت کے مطابق استعمال کر کے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔دوسری طرف دوسرا طبقہ اس بات پر مصر ہے کہ جو سنت آج سے چار ہزار سال قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کے حکم سے قائم کی اور پھر اسے اسلام میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے نئے سرے سے زندہ کر کے اسلامی تعلیم کا ایک ضروری حصہ بنایا اور اس پر زندگی بھر عمل کیا