مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 921 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 921

۹۲۱ مضامین بشیر اور کرایا وہ بہر حال قائم رہنی چاہئے اور جانوروں کی کمی یا مزعومہ کی دوسرے ذرائع سے پوری کی جائے وغیرہ وغیرہ۔اس مسئلہ کے متعلق صحیح اسلامی تعلیم بتانے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مختصر الفاظ میں یہ بتا دیا جائے کہ عید الاضحی کس چیز کا نام ہے اور وہ اسلام میں کس طرح شروع ہوئی اور اس کی غرض وغایت اور حکمت کیا ہے وغیرہ وغیرہ تا کہ اس سوال کا پس منظر واضح ہو جائے کیونکہ پس منظر کے بغیر کسی چیز کا صحیح تصور قائم نہیں کیا جاسکتا۔سو جاننا چاہئے کہ :- (۱) عید کے معنے ایسی اجتماعی خوشی کے دن کے ہیں جو بار بار آئے اور اسلام میں تین عیدیں مقرر کی گئی ہیں۔ایک جمعہ کی عید ہے جو سات دن کی نمازوں کے بعد آتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت ساری عیدوں میں سب سے زیادہ اہم اور برکت والی عید ہے۔گو تھوڑے تھوڑے وقفہ پر آنے کی وجہ سے لوگ عموماً اس کی قدر کو نہیں پہچانتے۔دوسرے عیدالفطر ہے جو ہر سال رمضان کی تمیں روزہ عبادت کے بعد آتی ہے اور اس کا نام عید الفطر اس واسطے رکھا گیا ہے کہ رمضان کے روزوں کے بعد گویا اس عید کے ذریعہ مومنوں کی افطاری ہوتی ہے اور تیسرے عید الاضحیٰ ہے جو ذوالحجہ مہینہ کی دسویں تاریخ کو حج کی عبادت کے اختتام پر ( جونو تاریخ کو ہوتا ہے ) آتی ہے اور پاکستان میں یہ عید عرف عام میں بقر عید کہلاتی ہے اور بعض لوگ اسے بڑی عید بھی کہتے ہے۔(۲) عید الاضحی کا نام عید الاضحیٰ اس واسطے رکھا گیا ہے حدیث میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اسی وجہ سے اس نام سے یا دفرمایا ہے کہ یہ قربانیوں کی عید ہے کیونکہ اضحی کا لفظ عربی زبان میں اضحاۃ یا اضحہ کی جمع ہے جس کے معنے قربانی کے جانور کے ہیں اور اس دن کا دوسرا نام اسلامی اصطلاح میں یوم النحر بھی ہے جس کے معنے قربانی والے دن کے ہیں اور یہ دونوں نام خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استعمال فرمائے ہیں اور حدیث میں کثرت کے ساتھ آتے ہیں۔اور حدیث کی کوئی کتاب بھی ان ناموں کے ذکر سے خالی نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ ان ناموں کے سوا اس دن کے لئے حدیث میں کوئی اور نام استعمال ہوا ہی نہیں۔اس تعلق میں یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ حج والی قربانیوں کے لئے قرآن شریف اور حدیث میں ھدی کا لفظ استعمال ہوا ہے نہ کہ اضحی کا لفظ جو عید الاضحیٰ کی قربانیوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔(۳) جیسا کہ صحیح روایات سے ثابت ہے عید الاضحی ہجرت کے بعد دوسرے سال میں شروع ہوئی ( زرقانی و تاریخ الخمیس ) اور اس طرح آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں گویا نو دس بڑی عید میں آئیں۔اس کے مقابل پر حج آپ نے صرف ایک دفعہ کیا ہے اور یہ وہی حج ہے جو