مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 902 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 902

مضامین بشیر ۹۰۲ مسئلہ تقدیر پر ایک اصولی نوٹ کیا فوت ہو جانے والا مریض بہتر علاج سے بچ سکتا تھا؟ رمضان کے ایام میں جبکہ میں بستر علالت پر پڑا تھا۔چوہدری عبد الغنی صاحب سکنہ کر یام ضلع ہوشیار پور حال نرائن گڑھ ضلع لائل پور کا میرے پاس ایک خطہ پہنچا۔جس میں چوہدری ظہور الدین پسر حاجی غلام احمد صاحب مرحوم سکنہ کر یام کی جوانمرگ وفات کی خبر تھی اور اس کے ساتھ ہی یہ لکھا تھا کہ ظہور الدین مرحوم کو جو ایک بہت نیک اور مخلص نو جوان تھا۔گاؤں میں صحیح علاج میسر نہیں آیا بلکہ علاج میں بعض ایسی غلطیاں ہو گئیں جن کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ظہور الدین مرحوم کی موت کا باعث بن گئیں وغیرہ وغیرہ۔ان حالات کے لکھنے کے بعد چوہدری عبد الغنی صاحب نے لکھا کہ ظہور الدین مرحوم کی وفات کے متعلق اس کے عزیزوں اور جماعت کے دوسرے لوگوں میں ایک علمی اختلاف پیدا ہو گیا ہے جس کے متعلق آپ کی رائے کی ضرورت ہے اور وہ اختلاف یہ ہے کہ ظہور الدین مرحوم کا چھوٹا بھائی اور بعض دوسرے عزیز یہ کہتے ہیں کہ اگر چوہدری ظہور الدین مرحوم کو صحیح اور بر وقت علاج میسر آ جاتا تو وہ بچ جاتا لیکن اس کے مقابل پر بعض دوسرے احباب کہتے ہیں کہ خدائی تقدیر نے بہر حال پورا ہونا تھا۔پس اگر ظہور الدین مرحوم کا مقدر وقت آچکا تھا تو خواہ کچھ ہوتا اس نے بہر حال مرنا تھا اور اس میں صحیح اور غیر صحیح علاج کا کوئی سوال نہیں وغیرہ وغیرہ یہ وہ سوال ہے جو رمضان کے ایام میں میرے پاس چوہدری عبد الغنی صاحب کی طرف سے پہنچا اور گو میں اس وقت بیمار تھا مگر حاجی غلام احمد صاحب مرحوم سکنہ کر یام کی نیکی اور اخلاص اور علاقہ کی جماعت میں ان کی ممتاز پوزیشن کی وجہ سے میں نے ضروری خیال کیا کہ جو سوال ان کے مرحوم بچے کی وفات کے متعلق پیدا ہوا ہے اس کا مختصر سا جواب دے کر ان کے عزیزوں کی تسلی اور راہ نمائی کی کوشش کروں۔چنانچہ میں نے بستر میں لیٹے لیٹے ہی انہیں ایک۔۔۔جواب بھجوا دیا۔جسے اب کسی قدر نظر ثانی کے بعد دوسرے دوستوں کے فائدہ کے لئے الفضل میں شائع کرا رہا ہوں۔وما توفیقی الا بالله العظيم والله اعلم بما هو الصراط المستقيم۔سو جاننا چاہئیے کہ تقدیر کا مسئلہ اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اس پر