مضامین بشیر (جلد 2) — Page 903
۹۰۳ مضامین بشیر ایمان لانے کے بغیر نہ تو خدا کی تو حید ہی کا مل ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس کے بغیر کسی مومن کا ایمان مکمل سمجھا جا سکتا ہے۔اس لئے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ کو ایمان کے بنیادی رکنوں میں سے ایک رکن قرار دیا ہے۔چنانچہ بخاری اور مسلم اور دیگر کتب حدیث میں قدر خیر وقد رشر پر ایمان لانے کو اسلام کی تکمیل کے لئے ایک بنیادی چیز قرار دیا گیا ہے۔مثلاً صحیح مسلم میں حضرت عمر کی روایت آتی ہے کہ: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الايمان ان تؤمن بالله ۵۵ وملائكته وكتبه رُسله واليوم الآخرو تؤمن بالقدر خيره وشره د یعنی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ایمان یہ ہے کہ تو خدا پر ایمان لائے اور ملائکہ اور خدا کی بھیجی ہوئی کتابوں اور خدا کے رسولوں اور جزا سزا کے۔دن پر ایمان لائے اور نیز اس بات پر ایمان لائے کہ خدا نے دنیا میں تقدیر خیر وشر جاری کر رکھی ہے۔“ اور عقلاً بھی یہی بات درست ثابت ہوتی ہے کیونکہ گو تقدیر کے مسئلہ کے بغیر خدا کو شائد خالق و باری و مصور تو یقین کیا جا سکے مگر اسے کسی طرح قادر یا متصرف یا حاکم یا مالک یوم الدین نہیں سمجھا جا سکتا۔یہ تقدیر کا قانون ہی ہے جس کی وجہ سے خدا دنیا کا حاکم یا متصرف ہے اور اس سارے کارخانوں کو چلانے والا اور انسانوں کے اعمال اور دیگر اشیاء کے نیک و بد نتائج پیدا کرنے والا قرار دیا جا سکتا ہے اور قدرِ خیر کے ساتھ قدرشر کا اضافہ اس لئے کیا گیا ہے کہ تا ہندوؤں یا بعض دیگر ادیان کی طرح یہ دھوکا نہ لگے کہ گویا شر کی تقدیر پیدا کرنے والا خدا خیر کی تقدیر پیدا کرنے والے خدا سے کوئی جدا گانہ ہستی رکھتا ہے اور تا ہر امر میں خواہ وہ خیر کا ہو یا شرکا اور خواہ وہ کسی اچھے کام کا اچھا نتیجہ ہو یا برے کام کا برا نتیجہ ہو انسان بہر حال دنیا کے واحد لا شریک خدا کی طرف جھکنے اور رجوع کرنے کا سبق سیکھے۔اگر اسے کوئی نعمت حاصل ہو تو وہ اس بات سے خائف رہے کہ میرا خدا میری ناشکری اور بد عملی پر اس نعمت کو چھین بھی سکتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف اور دکھ پہنچے تو وہ مایوسی کی طرف جھکنے کی بجائے اس امید سے معمور رہے کہ اصلاح کرنے اور نیکی کا راستہ اختیار کرنے پر میرا خدا اس تکلیف کو دور کر کے میرے لئے پھر راحت اور برکت کا دور لا سکتا ہے اور دراصل یہی اس توحید کا مل کا مرکزی نقطہ ہے جس پر اسلام ہمیں قائم کرنا چاہتا ہے۔مگر افسوس ہے کہ جتنا یہ مسئلہ اہم ہے اتنی ہی اس میں غلط فہمی بھی زیادہ پیدا ہوئی ہے اور یہ غلط فہمی آج کی نہیں بلکہ صدیوں سے چلی آتی ہے اور مسلمان علماء میں جبر و قدر کے مسئلہ کا اختلاف ایک ایسا