مضامین بشیر (جلد 2) — Page 886
مضامین بشیر ۸۸۶ اور تعیین میں ہر فرد کا ذاتی شوق نہ صرف حصہ دار بنتا ہے بلکہ بڑھتا اور نشو ونما پاتا ہے۔دیکھو یہ کیسا روح پرور نظارہ ہے کہ شعبان کی انتیس تاریخ کو ہر مسلمان رمضان کے انتظار میں اور ہلال رمضان کی رویت کے شوق میں آسمان کی طرف نظریں اٹھائے رہتا ہے کہ اس کا محبوب چاند کب نظر آتا ہے اور پھر وہ چاند کو دیکھ کر کتی روحانی خوشی سے بھر جاتا ہے اور نئے زمانہ کی برکات کے واسطے کس طرح دعاؤں وغیرہ میں منہمک ہو جاتا ہے لیکن ہوائی جہاز میں بیٹھ کر چند علماء یا چند امراء کا فضا کی بلندیوں میں پہنچ کر چاند دیکھ لینا اور عوام الناس کا اس سے محروم رہنا اس ساری روحانی کیفیت اور اس سارے ذوق و شوق پر گویا پانی پھیر دیتا ہے۔بے شک بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ باریک ہونے کی وجہ سے چاند صرف چند تیز نظر لوگوں کو نظر آتا ہے لیکن یہ بات شاذ ہے اور بہر حال قاعدہ یہی ہے کہ اکثر لوگ خود چاند کو دیکھ کر ذاتی شوق کو پورا کرتے ہیں اور جنہیں چاند نظر نہیں آتا۔وہ بھی کم از کم اس کی جستجو اور تلاش میں کچھ وقت خرچ کر کے اپنے شوق و ذوق کے جذبے کو پورا کر لیتے ہیں۔اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ انتیس شعبان کی شام کو صحابہ کرام روزوں کے آغاز کے انتظار میں اس طرح باہر نکل نکل کر آسمان کی طرف دیکھتے تھے کہ اس سے مدینہ کی گلیوں میں ایک خاص قسم کی روحانی کیفیت اور گہما گہمی پیدا ہو جاتی تھی۔یہ کیفیت بھلا ہوائی جہازوں کی رویت کے ذریعہ کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے؟ لیکن سب سے زیادہ اہم بات غالباً مطلع کے اختلاف کی ہے۔ہر شخص جانتا ہے زمین کے گول ہونے کی وجہ سے مختلف مقامات کا مطلع جدا ہوتا ہے اور جن دو جگہوں میں ایک خاص نوع کا فاصلہ زیادہ ہو جائے وہاں مطلع کا فرق اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ ایک جگہ چاند نظر آتا ہے اور دوسری جگہ نظر نہیں آتا۔بہر حال جو چاند یہاں نظر آ رہا ہے ضروری نہیں کہ وہ خاص جہت کے فرق سے پانچ سات سومیل پیچھے کے علاقہ میں بھی نظر آئے خصوصاً جبکہ وہ افق کے قریب ہو اور اس کے طلوع کا وقت بھی تھوڑا ہو۔بہر حال جغرافیائی لحاظ سے ہر جگہ کا مطلع جدا ہوتا ہے اور حدیث میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم صراحت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ہر علاقہ کے لوگوں کو اپنے مطلع کی رویت پر بنیا درکھنی چاہئے۔چنانچہ: حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ایک مسلمان شام سے مدینہ کی طرف آیا اور اس نے آکر خبر دی کہ شام میں فلاں دن چاند دیکھ کر روزہ رکھا گیا ہے۔یہ دن مدینہ کی رویت ہلال کے خلاف تھا اس پر بعض مسلمانوں میں چہ میگوئی ہوئی اور وہ حضرت عبد اللہ بن عباس “ یا شائد حضرت عبد اللہ بن عمر کے پاس پہنچے اور ان سے پوچھا کہ اس معاملہ میں اسلام کا کیا فتویٰ ہے انہوں نے فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں کو چاہئے کہ اپنے مقامی مطلع پر بنیا درکھا کریں۔پس اگر شام میں کسی اور دن