مضامین بشیر (جلد 2) — Page 887
۸۸۷ مضامین بشیر روزہ رکھا گیا ہے تو کوئی بات نہیں۔شام والوں کے لئے وہی رمضان کا آغا ز سمجھا جائے گا جبکہ انہوں نے شام میں چاند دیکھا لیکن ہم مدینہ والوں کے لئے رمضان کا آغاز اس تاریخ کے مطابق سمجھا جائے گا جبکہ مدینہ میں چاند دیکھا گیا۔گا اس حدیث سے جو اس وقت میں نے یاد سے لکھی ہے۔مگر اس کا معین حوالہ بعد میں تلاش کر کے پیش کیا جا سکتا ہے ثابت ہے کہ اسلام نے اس معاملہ میں مطلع کے اختلاف کو بھی ضرور ملحوظ رکھا ہے۔یعنی اگر مطلع مختلف ہو جائے تو حکم یہ ہے کہ اپنی مقامی رویت کے مطابق عمل کرو۔اب ظاہر ہے کہ جس طرح فاصلہ کے لحاظ سے مطلع بدلتا ہے اسی طرح وہ بلندی کے لحاظ سے بھی بدلتا ہے۔زمین پر کھڑے ہو کر ہمارا مطلع اور ہوتا ہے اور پندرہ ہزار فٹ اوپر جانے کے نتیجہ میں وہ اور ہو جائے گا اور اس فرق کے نتیجہ میں یہ بالکل ممکن بلکہ اغلب ہے کہ جو چیز زمین پر کھڑے ہو کر نظر نہیں آسکتی وہ اوپر جانے سے نظر آنے لگے۔دراصل جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے مطلع کا اختلاف زیادہ تر زمین کی گولائی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔پس جس طرح خاص جہت میں چند سو میل آگے پیچھے ہونے کی وجہ سے زمین کے درمیانی حصہ کی گولائی کا عنصر کم و بیش ہو جاتا ہے اسی طرح لازماً وہ بلندی کے نتیجہ میں بھی بدل سکتا ہے اور بدلے گا۔پس اس لحاظ سے بھی یہ بات درست نہیں کہ ہم پندرہ پندرہ ہزار فٹ فضاء میں بلند ہو کر چاند دیکھنے کی کوشش کریں۔کیونکہ اس طرح مطلع کافی بدل سکتا ہے حالانکہ شریعت ہمیں ہمارے مقامی مطلع کی پابند قرار دیتی ہے نہ کسی دوسرے مطلع کی۔خلاصہ یہ کہ چاند دیکھنے کا جو طریق اس سال کراچی میں ایجاد کیا گیا ہے وہ میری رائے میں درست نہیں کیونکہ: (۱) وہ رویتِ عامہ کے اصول کے خلاف ہے۔(۲) وہ عوام الناس کے جذ بہ شوق و ذوق کو کم کرنے والا ہے۔اور (۳) اس میں مطلع بدل جاتا ہے۔حالانکہ شریعت کا منشاء یہ ہے کہ ایسے امور میں مقامی مطلع پر بنیاد رکھی جائے۔میں نے یہ نوٹ بیماری کی حالت میں بستر میں لیٹے لیٹے املا کرایا ہے اور تکلیف کی وجہ سے اس کی نظر ثانی بھی نہیں کر سکا لیکن بہر حال میں امید کرتا ہوں کہ میرا یہ نوٹ ہمارے دوستوں کو کم از کم ایک ذہنی خوراک مہیا کرنے میں ضرور کامیاب ہوگا۔بالآخر میں پھر اپنے لئے دعا کی درخواست کرتا ہوں۔مطبوعه الفضل ۲۴ جون ۱۹۵۰ء)