مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 885 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 885

۸۸۵ مضامین بشیر والی حرکات پر مبنی قرار دیا گیا ہے تا کہ عوام الناس ان کے متعلق خود اپنی تسلی اور رویت کے مطابق فیصلہ کر سکیں۔اوپر کی تشریح میں ضمناً اس سوال کا جواب بھی آجاتا ہے جو بعض لوگ جلد بازی میں کیا کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے کہ اسلام کے احکام اور اسلام کے اوقات صرف چاند کے ساتھ وابستہ کئے گئے ہیں اور گویا نظام قمری کو اختیار کر کے نظام شمسی کو ترک کر دیا گیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ اعتراض بالکل غلط اور جہالت پر مبنی ہے کیونکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اسلامی عبادتوں کے احکام صرف چاند کے ساتھ ہی وابستہ نہیں بلکہ حسب ضرورت اور حسب حالات چاند اور سورج دونوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔یعنی اگر کسی امر میں عوام الناس کی سہولت چاند کی رویت کے ساتھ وابستہ ہے تو اسے چاند کی حرکات پر مبنی قرار دے دیا گیا ہے اور اگر کسی امر میں پبلک کی سہولت سورج کی حرکات کے ساتھ وابستہ ہے تو اسے سورج کی حرکات کے ساتھ وابستہ قرار دے دیا گیا ہے۔پس نظام شمسی اور نظام قمری دونوں اسلامی نظام ہیں اور دونوں سے اسلام نے یکساں فائدہ اٹھایا ہے بلکہ شاید اسلام کے زیادہ احکام نظام شمسی کے ساتھ وابستہ ہیں۔مثلاً نمازوں کے اوقات جو سب سے افضل ترین عبادت ہے کلیۂ سورج کی حرکات کے ساتھ وابستہ ہیں۔اس کے مقابل پر رمضان کے بعض احکام ( مثلاً رمضان کے مہینہ کا آغاز اور انجام ) چاند کی رویت کے ساتھ وابستہ ہیں اور بعض احکام ( مثلاً یومیہ روزے کا آغاز اور انجام ) سورج کی حرکات کے ساتھ وابستہ ہے۔یہی حال حج کا ہے کہ اس کے مہینہ اور تاریخ کی تعیین تو چاند کے ساتھ وابستہ ہے لیکن تاریخوں کے اندر جج کے یومیہ مراسم سورج کی حرکات کے ساتھ وابستہ ہیں۔گویا موٹے طور پر نماز اور روزہ اور حج کے احکام کا ۲۱۳ حصہ سورج کی حرکات کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے اور ۱۱۳ حصہ چاند کی حرکات کے ساتھ وابستہ رکھا گیا ہے اور اس سارے نظام میں یہی حکیمانہ اصول چلتا ہے کہ عوام الناس کی سہولت کے لئے چاند اور سورج کی بدیہی رویت اور بدیہی حرکات پر بنیا د رکھی جائے۔الغرض اسلام نے عبادتوں کے اوقات کو عوام الناس کی سہولت کے لئے چاند اور سورج کی بدیہی حرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔اس لئے میری ناقص رائے میں یہ بات درست نہیں کہ ان معاملات میں اسلامی عبادتوں کے احکام کو ان کے بدیہی میدان سے ہٹا کر کسی مخصوص علمی اور سائینٹفک طریق سے وابستہ کر دیا جائے اور عبادات کے اوقات کا فیصلہ ایک خاص طبقہ کی اجارہ داری بن جائے۔اسلام کے مقرر کردہ طریق میں ایک بھاری حکمت یہ بھی ہے کہ اس میں ہر مسلمان کی ذاتی دلچسپی براہ راست قائم رہتی ہے۔جس کے نتیجہ میں دینی روح لازما ترقی کرتی ہے اور عبادتوں کے اوقات کے انتظار