مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 884 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 884

مضامین بشیر ۸۸۴ اسلام نے اس قسم کے معاملات میں جو عام پبلک عبادتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔سائنس کے مخصوص طریقوں اور باریک علمی رستوں کی بجائے عوام الناس کی سہولت اور جمہور کے بدیہی منظر پر بنیا درکھی ہے۔چنانچہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : الشهر تسع وعشرون ليلة فلا تصوموا حتى تروا الهلال فان۔۔عليكم فاكملوا العدة ثلاثين۔د یعنی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ کبھی چاند کا مہینہ انتیس رات کا ہوتا ہے ( اور کبھی تمہیں رات کا ہوتا ہے ) پس اے مسلمانو تم رمضان کے روزے اس وقت تک شروع نہ کیا کرو جب تک کہ شعبان کی انتیس تاریخ کے بعد چاند نہ دیکھ لو اور اگر انتیس تاریخ کی شام کو تمہارے علاقہ میں بادل ہوں تو اس صورت میں تھیں کی گنتی پوری کر کے روزے شروع کیا کرو۔“ اس صحیح حدیث میں جو غالباً بخاری اور مسلم دونوں میں آتی ہے ہلال کی رویت کا یہ واضح اور صاف طریق بیان کیا گیا ہے کہ چونکہ چاند کا مہینہ بھی انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تمہیں دن کا ہوتا ہے۔اس لئے اگر انتیس شعبان کی شام کو چاند نظر آ جائے اور لوگ اسے دیکھ لیں تو فبہا لیکن اگر انتیس کو چاند نظر نہ آئے اور بادل ہوں تو پھر تمہیں کی گنتی پوری کر کے اگلے دن سے روزہ شروع کرنا چاہئے۔اب اس صاف اور سیدھے طریق کو چھوڑ کر یہ خیال کرنا کہ ہوائی جہازوں میں بیٹھ کر اور بادلوں سے اوپر پرواز کر کے چاند دیکھنے کی کوشش کی جائے ایک خواہ مخواہ کا تکلف ہے جو اس قسم کے معاملات میں اسلامی منشاء کے خلاف ہے۔دراصل ان عبادات کے معاملہ میں جو عوام الناس سے تعلق رکھتی ہیں اسلام نے کسی باریک علمی طریق پر بنیاد نہیں رکھی بلکہ پبلک کی سہولت اور عوام الناس کی رویت پر بنیاد رکھی ہے اور یہ اصول روزے کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ ہر وسیع اسلامی عبادت کے معاملہ میں یکساں چلتا ہے مثلاً جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے نمازوں کے اوقات میں سورج کے طلوع اور زوال اور غروب پر بنیا د رکھی گئی ہے جو ایک بدیہی چیز ہے اور ہر شخص کی پہنچ کے اندر ہے نہ کہ کسی خاص طبقہ کی اجارہ داری۔اسی طرح رمضان میں روزوں کے مہینہ کے آغا ز کو چاند کی رویت پر مبنی قرار دیا گیا ہے اور یومیہ روزہ کی ابتداء اور انتہاء کو سورج کے طلوع اور غروب کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے اور یہ بھی اسی طرح کی ایک بدیہی چیز ہے جو کسی خاص گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں۔اسی طرح حج کے مہینہ اور حج کی تاریخوں کو چاند کی رویت کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے مگر حج کے روزانہ مراسم کو سورج کی حرکات کے ساتھ جوڑا گیا ہے گویا اس قسم کی ساری عمومی عبادتوں کو چاند اور سورج کی نظر آنے