مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 881 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 881

۸۸۱ مضامین بشیر حضرت پیر منظور محمد صاحب کی وفات ابھی ابھی ربوہ (چنیوٹ) سے سید ولی اللہ شاہ صاحب امیر جماعت نے بذریعہ تا ر ا طلاع دی ہے کہ صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحب وفات پاگئے ہیں اور نماز جنازہ آج (۲۱ جون ) نماز مغرب کے بعد ہو رہی ہے۔انا الله و انا الیه راجعون۔حضرت پیر صاحب مرحوم بہت پرانے صحابیوں میں سے تھے بلکہ ایک طرح سے گویا پیدائشی احمدی تھے۔کیونکہ ان کے والد صاحب مرحوم بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معتقد اور مصدق تھے۔گو وہ سلسلہ بیعت سے پہلے ہی وفات پاگئے۔یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے اپنی خوش عقیدگی میں دعوئی سے پہلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا تھا کہ : تمہیں نظر ہم مریضوں کی ہے تم مسیحا بنو خدا کے لئے حضرت پیر منظور محمد صاحب منشی احمد جان صاحب مرحوم لدھیانوی کے دوسرے صاحبزادے تھے۔اُن کی ہمشیرہ صاحبہ جو حضرت اماں جی کہلاتی ہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں اور ان کے بڑے بھائی پیر افتخار احمد صاحب ہیں جو خدا کے فضل سے اب بھی زندہ ہیں اور ربوہ میں رہائش رکھتے ہیں۔حضرت پیر منظور محمد صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت کا بہت موقع ملا ہے اور اسی شوق میں انہوں نے خوش نویسی سیکھی تا کہ حضور کی کتابوں کی کتابت حضور کے منشاء کے مطابق بہترین صورت میں ہو سکے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت سی کتابوں کے ایڈیشن اول پیر صاحب مرحوم ہی کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں اور ان کی کتابت کی خوبی اور دیدہ زیبی ظاہر وعیاں ہے۔اس کے بعد جب پیر صاحب مرحوم جوڑوں کے درد کی وجہ سے معذور ہو گئے تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی منظوری سے حضور کے بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔چنانچہ ہم سب بہن بھائیوں کو پیر صاحب نے ہی قرآن کریم ناظرہ پڑھایا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی مشہور نظم آمین میں پیر صاحب کے طریقہ تعلیم کی بہت تعریف فرمائی ہے اور ان کے لئے خاص دعا کی ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں :