مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 882 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 882

مضامین بشیر ۸۸۲ پڑھایا جس نے اُس پر بھی کرم کر جزا دین اور دنیا میں بہتر رہ تعلیم اک تو نے بتا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي ۴۴ قاعدہ میسر نا القرآن جس نے بعد میں اتنی شہرت حاصل کی وہ ہم بہن بھائیوں کی تعلیم کی غرض سے ہی ایجاد کیا گیا تھا اور خدا کے فضل سے اس قاعدہ کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی ہے کہ لاکھوں احمد یوں اور غیر احمد یوں نے اُس سے فائدہ اٹھایا ہے اور اس وقت تک اُس کے بے شمار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔وفات کے وقت حضرت پیر منظور محمد صاحب کی عمر غالبا چوراسی سال کی تھی۔آپ کے مزاج میں تصوف بہت غالب تھا مگر اس کے ساتھ زندہ دلی بھی بہت تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے ساتھ خاص عقیدت رکھتے تھے۔پیر صاحب مرحوم کے بچوں میں اس وقت صرف ہماری چھوٹی ممانی زندہ ہیں جو ہمارے چھوٹے ماموں حضرت میر محمد اسحق صاحب مرحوم کے ساتھ بیاہی گئیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی نعمتوں کے ساتھ نوازا۔حضرت پیر صاحب کا ہمارے بڑے ماموں مرحوم حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کے ساتھ خاص تعلق تھا۔دعا ہے کہ خدا تعالیٰ حضرت پیر صاحب مرحوم کو اپنی خاص رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور ان کی اولا داور ان کے نیک کام کا حافظ و ناصر ہو۔میں اس وقت بستر میں بیمار پڑا ہوں اس لئے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔انشاء اللہ پھر کبھی موقع ملا تو حضرت پیر صاحب مرحوم کے متعلق زیادہ تفصیل سے لکھوں گا کیونکہ مجھ پر اُن کا دوہرا حق ہے، ایک اُن کے قدیمی صحابی ہونے کا اور دوسرے استاد ہونے کا۔( مطبوعه الفضل ۲۳ جون ۱۹۵۰ء)