مضامین بشیر (جلد 2) — Page 843
۸۴۳ مضامین بشیر ما تحت سرقہ کی حد کے نیچے نہیں آتا۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے معروف حد کے اندر اندر ہند ز وجہ ابو سفیان کو اپنے خاوند کے مال میں سے بلا اجازت لے لینے کو قابل اعتراض خیال نہیں فرمایا۔( حالات بیعت ہند ) اسی طرح حضرت عمرؓ نے اس شخص کو قطع ید کی سزا کے قابل نہیں سمجھا جو قو می بیت المال میں۔کوئی چیز چرا لیتا ہے گو وہ حالات پیش آمدہ کے ماتحت کسی اور سزا کا مستحق سمجھا جائے۔(ه) آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت ایک نابالغ بچے یا فا تر العقل شخص کی چوری بھی مستثنیات میں داخل ہے اور ایسے شخص کو ہرگز قطع ید کی سزا نہیں دی جائے گی۔( و ) اسی طرح حدیث میں صراحت آتی ہے کہ دوسرے کے مال کو زبردستی چھین لینے والا شخص یا آنکھ بچا کر اڑا لے جانے والا شخص قطع ید والی سزا کے نیچے نہیں آتا اور نہ ہی امانت میں خیانت کا مرتکب انسان اس سزا کے نیچے آتا ہے۔( ترمذی ) گو وہ دوسرے لحاظ سے مجرم سمجھا جائے۔( ز ) بالآخر وہ شخص بھی قطع ید کی سزا کا مستحق نہیں سمجھا جاتا جو گرفتار ہونے سے قبل نادم ہو کر تا ئب ہو جاتا ہے۔(سورہ مائدہ نمبر ۶ ) وغیرہ وغیرہ ( ۸ ) موت کی سزا کے متعلق مغربی ممالک میں جو بحث آج کل جاری ہے کہ آیا موت کی سزا قائم رکھی جائے یا کہ اڑا دی جائے وہ بھی اس مسئلہ کے حل کرنے میں اصولی روشنی ڈالتی ہے۔آج سے کچھ عرصہ پہلے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بعض ریاستوں میں تجربہ کے طور پر موت کی سزا اڑا دی گئی تھی لیکن اس کا نتیجہ تاریخ کا ایک کھلا ہوا ورق ہے یعنی جرم بڑھ گیا اور موت کی سزا پھر بحال کرنی پڑی۔یقیناً غور کرنے والوں کے لئے اس تجربہ میں بھی ایک عمدہ اشارہ ہے۔(۹) موسوی شریعت جسے تمام مسیحی اقوام اور مسیحی ممالک میں الہامی شریعت سمجھا جاتا ہے۔اس میں اسلام سے بھی زیادہ سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں اور حضرت مسیح ناصری موسوی شریعت کے متعلق فرماتے ہیں کہ میں موسیٰ کی شریعت کو مٹانے نہیں آیا بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔پس کم از کم مغربی اقوام کے مذہبی لوگ اسلام کی سزاؤں پر اعتراض کرنے کا حق نہیں رکھتے۔(۱۰) اگر بعض لوگوں کی نظر میں اسلام کی جاری کردہ سزا ئیں زیادہ سخت بھی کبھی جائیں تب بھی بہر حال اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسلام دنیا سے بدی کو مٹانے کا عزم لے کر آیا ہے نہ کہ اسے قائم کرنے اور پھیلانے کا حامی بن کر۔(۱۱) ضمناً اس بات کا اظہار بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ متاخرین میں بعض لوگ اس خیال کے بھی پیدا ہوئے ہیں جو قطع ید کے حکم کو ایک استعارہ قرار دیتے ہیں اور ہاتھ کے کاٹے جانے سے