مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 844 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 844

مضامین بشیر ۸۴۴ کوئی ایسی سزا دینا مراد لیتے ہیں جس سے گویا مجرم کو بے دست و پا کر کے محصور کر دیا جائے۔لیکن یہ تشریح قابل قبول نہیں سمجھی جا سکتی اور نہ اس قسم کے وسیع عملی مسئلہ میں کسی قطعی اور یقینی دلیل کے بغیر اس قسم کی بے بنیا دتا ویل کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔(۱۲) باقی رہا اعضاء کے قصاص کا سوال یعنی آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت وغیرہ۔سواوّل تو اس کے متعلق جو قرآنی آیت ہے وہ تو رات کے حکم کا ذکر کرتی ہے نہ کہ اپنا ( سورۃ مائدہ نمبرے ) علاوہ ازیں جیسا کہ حدیثوں میں مذکور ہے یہ ایک بالکل جائز قصاص کی صورت ہے جس کے بغیر سوسائٹی میں حقیقی امن قائم نہیں ہوسکتا اور اس حکم کے متعلق وہی اصولی نظریہ چسپاں ہو گا جو اوپر بیان کیا گیا ہے یعنی و لكم في القصاص حياة یا اولی الالباب و من عفا واصلح فاجره على الله۔( مطبوعه الفضل ۳ رمئی ۱۹۵۰ء)