مضامین بشیر (جلد 2) — Page 842
مضامین بشیر ۸۴۲ ( د ) ایک اور غلط فہمی اس معاملہ میں یہ پیدا ہو رہی ہے کہ اعتراض کرنے والے اصحاب جہاں ایک طرف موجودہ سو سائٹی کے کثیر التعداد جرموں پر نگاہ رکھتے ہیں وہاں دوسری طرف وہ ان سارے جرموں میں اسلامی سزا کے طریق کو خیالی طور پر جاری کر کے اپنے دل میں ایک سخت جذباتی دھ کا محسوس کرتے ہیں کہ گویا اتنے لوگ ہاتھ کٹنے کے نتیجہ میں ٹنڈ منڈ ہو کر رہ جائیں گے۔یہ طریق یقیناً انسانی ذہن میں ایک بالکل غلط نقشہ پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے۔صحیح نفسیاتی طریق یہ ہے کہ صرف ایک دو ابتدائی جرموں کی صورت میں قطع ید والی سزا کو ذہن میں لا کر بعد کے جرموں کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ وہ اسلامی نظام کے ماتحت وقوع پذیر ہی نہیں ہوں گے کیونکہ دراصل یہی وہ صورت ہے جو اسلامی سزاؤں کو جاری کرنے کے نتیجہ میں عملاً پیدا ہوتی ہے۔(۷) با وجودا و پر کی اصولی تشریح کے یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ اسلام ہر قسم کی چوری میں ہاتھ کاٹے جانے کی سزا تجویز کرتا ہے۔حق یہ ہے کہ اسلام قطع ید کے معاملہ میں بہت سی دانشمندانہ شرطیں اور حد بندیاں لگاتا ہے جن میں سے بعض مختصر طور پر ذیل میں بیان کی جاتی ہیں :- (الف) یہ کہ مسروقہ مال کھانے پینے کی قسم کی چیزوں کا نہیں ہونا چاہئے جو انسانی زندگی کے اقل سہارے کا موجب ہیں۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم ایسے چور کے لئے قطع ید کی سزا تجویز نہیں فرماتے تھے جس نے کوئی پھل یا کھانے پینے کی چیز چرائی ہو۔( امام مالک و ترمذی ) اسی طرح اگر سفر کے دوران میں کوئی شخص اپنی پونجی کے ختم ہو جانے کی وجہ سے چوری کا مرتکب ہو تو اسے بھی قطع ید کی غرض سے سارق قرار نہیں دیا جائے گا۔(ابو داؤد ) بلکہ اس کے لئے کوئی اور مناسب سزا تجویز کی جائے گی۔(ب) قطع ید کی سزا کے لئے چوری اہم ہونی چاہئے۔معمولی چیزوں کی چوری جو کم قیمت کی ہوں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق چوری کرنے والے کو ہاتھ کاٹے جانے کی سزا کی مستوجب نہیں بناتی۔( بخاری ومسلم ) ( ج ) چوری مشکوک یا مشتبہ صورت کی بھی نہیں ہونی چاہئے۔مثلا اگر کوئی شخص ایسے مال میں سے کوئی چیز لے لے جس میں دوسرے لوگوں کے ساتھ اس کا بھی حصہ ہے تو خواہ اس نے اپنے حصہ سے زیادہ ہی لے لیا ہوا سے قطع ید کی سزا نہیں دی جائے گی۔اسی اصول کے ماتحت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم مال غنیمت میں سے چوری کرنے والے سپاہی کو اس کے قبیح فعل کے باوجود قطع ید کی سزا نہیں دیتے تھے۔(ترمذی) (د) قریبی رشتہ دار کے مال میں سے کوئی چیز لینا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے