مضامین بشیر (جلد 2) — Page 838
مضامین بشیر ۸۳۸ درویشوں کے اہل وعیال کا خیال رکھا جائے وقتی امداد کے لئے امراء صاحبان میرے دفتر میں رپورٹ فرما ئیں اس وقت کئی درویشوں کے اہل وعیال جو پاکستان میں ہیں مختلف قسم کی تکلیفوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور گو بعض امراء اور پریذیڈنٹ صاحبان ایک حد تک ان کا خیال رکھتے ہیں لیکن بعض اس معاملہ میں پوری فرض شناسی سے کام نہیں لے رہے اور میرے دفتر میں گاہے گاہے شکایتیں پہنچتی رہتی ہیں اور عموماً یہ شکایتیں تین قسم کی ہیں (اول) عدم نگرانی کی وجہ سے بچوں کے خراب ہونے کی شکایت اور ( دوم ) مالی تنگی کی شکایت اور ( سوم ) مکان کی شکایت ان میں سے پہلی شکایت سب سے زیادہ قابل افسوس اور قابل توجہ ہے اور اس معاملہ میں امراء مقامی اور پریذیڈنٹ صاحبان کی طرف سے غفلت کا کوئی جواز بھی نہیں۔اگر مقامی کا رکن درویشوں کے بچوں کی عمومی نگرانی بھی نہیں کر سکتے تو میں سمجھ نہیں سکتا کہ وہ خدا کے سامنے اپنے عہدہ کے متعلق کس طرح سر خرو سمجھے جا سکتے ہیں۔پس ہمارے دوستوں کو اس کام کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے ورنہ ایک قیمتی قومی پونجی کے ضائع جانے کا احتمال ہے۔جہاں تک دوسری شکایت یعنی مالی تنگی کا سوال ہے۔اس کے متعلق میرے دفتر کولکھنا چاہئے کیونکہ گو با قاعدہ ماہوار وظیفہ کی منظوری کا طریق عمل لمبا ہوتا ہے لیکن وقتی اور عارضی امداد کے لئے میرے دفتر میں فنڈ موجود ہوتا ہے اور امراء اور پریذیڈنٹ صاحبان کی تصدیق آنے پر اس فنڈ میں سے حسب گنجائش وقتی امداد دی جا سکتی ہے اور کسی حد تک مخیر مقامی دوستوں کو خود بھی ثواب کمانا چاہئے۔باقی رہا تیسری شکایت یعنی مکان کی مشکل کا سوال سو اس کے لئے جہاں تک مقامی حالات کے ماتحت ممکن ہو کوشش کی جائے۔اور عموماً دیہات میں ایسا انتظام مشکل نہیں ہوتا۔تنگی کے اوقات میں دوست اور عزیز دوسروں کے ساتھ مل کر بھی گزارہ کر لیتے ہیں۔صرف اخلاص اور قربانی کی روح کی ضرورت ہوتی ہے اور انشاء اللہ جب ربوہ میں مکانات بن جائیں گے تو بڑی حد تک اس شکایت کا ازالہ ہو جائے گا۔بہر حال میں اس اعلان کے ذریعہ مقامی امراء اور پریذیڈنٹ صاحبان کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ درویشوں کے اہل وعیال کا خاص خیال رکھ کر عند اللہ ماجور ہوں کیونکہ اخوت اسلامی کا یہ ایک اہم ترین پہلو ہے اور مالی تنگی کی صورت میں وقتی اور عارضی امداد کے لئے میرے دفتر کولکھا جائے۔( مطبوعه الفضل ۲۸ / اپریل ۱۹۵۰ء)