مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 772 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 772

مضامین بشیر علماء کی تعریف یہ ہے کہ صحابی وہ ہے جسے اس کے مومن ہونے کی حالت میں نبی نے دیکھا ہو۔“ لیکن میرے نزدیک صحابی کی تعریف یہ ہے کہ صحابی وہ ہے جس نے اپنے مومن ہونے کی حالت میں نبی کو دیکھا ہو یا اس کا کلام سنا ہو۔“ بہر حال یہ ایک قدیم اختلافی مسئلہ ہے اور حقیقت یہ ہے ( اور یہ ایک حد تک طبعی امر ہے ) کہ جوں جوں نبی کے زمانہ سے دوری ہوتی جاتی ہے لوگ فطرتا صحابی کی تعریف میں نرمی کا طریق اختیار کرتے جاتے ہیں۔تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس پاک گروہ میں شامل کر کے اپنے لئے برکت اور رحمت کا موجب بنائے جائیں۔چنانچہ زمانہ نبوت اور قرب زمانہ نبوت میں صحابی کی تعریف عموماً یہ کی جاتی رہی ہے کہ صحابی وہ ہے کہ جس نے نبی کا زمانہ پایا اس کی بیعت سے مشرف ہوا اسے دیکھایا اس کا کلام سنا اور اس کی صحبت سے مستفیض ہوا۔“ اس کے بعد وہ درمیانی تعریف آتی ہے جو میں کرتا ہوں یعنی صحابی وہ ہے جس نے اپنے مومن ہونے کی حالت میں نبی کو دیکھا اس کا کلام سنا ہوا اور اسے نبی کو دیکھنا یا اس کا کلام سنا یا د ہو۔“ اور تیسرے درجہ پر ( جو دراصل زمانہ نبوت کے بعد سے تعلق رکھتا ہے ) یہ تعریف آتی ہے کہ صحابی وہ ہے جسے اس کے مومن ہونے کی حالت میں نبی نے دیکھا ہو خواہ اسے خود نبی کو دیکھنا یا د نہ ہو۔“ اس کے علاوہ بعض اور تعریفیں بھی کی گئی ہیں اور شاید اپنے اپنے وقت کے لحاظ سے اکثر تعریفیں درست سمجھی جاسکتی ہیں۔لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں میرا ذاتی رجحان اوپر کی تین تعریفوں میں سے درمیانی تعریف کی طرف زیادہ ہے کیونکہ ایک طرف تو اس میں پہلی تعریف والی تنگی نہیں ہے اور دوسری طرف اس میں تیسری تعریف والی حد سے زیادہ وسعت بھی نہیں جس میں سے گویا صحبت والا مفہوم جو اصل مرکزی چیز ہے خارج ہو جاتا ہے۔واللہ اعلم مطبوعه الفضل ۵ فروری ۱۹۵۰ء)