مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 771 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 771

مضامین بشیر قادیان میں چوبیسواں صحابی صحابی کی تعریف میں دلچسپ اختلاف گذشتہ ایام میں میں نے ان تنیس کس صحابیوں کی فہرست شائع کی تھی جو اس وقت قادیان میں مقیم ہیں۔اب اس کے بعد تازہ رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ اس وقت قادیان میں ایک اور صحابی بھی موجود ہیں جن کا نام میاں سلطان احمد صاحب ولد چوہدری نور علی صاحب ساکن نواں پنڈ بہا در ضلع گورداسپور ہے۔انہوں نے ۱۸۹۳ء میں قادیان پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔یہ گویا قادیان میں اس وقت چوبیس صحابی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان جملہ صحابیوں کی زندگی میں برکت دے اور ان کی برکتوں سے جماعت کے دیگر افراد کو نوازے۔آمین اس کے علاوہ سابقہ فہرست کی اس غلطی کی اصلاح بھی کی جاچکی ہے۔جس میں سہو قلم سے یہ شائع ہو گیا تھا کہ قادیان کے موجودہ صحابیوں میں سے میاں صدرالدین صاحب سکنہ قادیان اور محترمی بھائی چوہدری عبدالرحیم صاحب اور محترمی بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اس ۳۱۳ والی فہرست میں شامل ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجام آتھم کے ساتھ شائع فرمائی تھی۔بعد کے اعلان میں یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ ان تین ناموں میں میاں صدرالدین صاحب سکنہ قادیان کا نام غلط شائع ہو گیا تھا اور صحیح نام میاں محمد الدین صاحب سکنہ کھاریاں کا ہے جو انجام آتھم والی فہرست میں شامل ہیں۔میاں صدرالدین صاحب سکنہ قادیان گو بیشک پرانے صحابی ہیں لیکن انجام آتھم والی ۳۱۳ کی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں۔اس ضمن میں ایک اور بات بھی قابل نوٹ ہے اس وقت قادیان میں ایک صاحب میاں عبدالرحیم صاحب بر اور مولوی عبد الغفور صاحب مبلغ جماعت احمد یہ ہیں۔میاں عبدالرحیم صاحب کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود نے ہی ان کا نام رکھا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو دیکھا بھی تھا۔لیکن خود میاں عبد الرحیم صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دیکھنا یا دنہیں۔ان حالات میں گومیری تعریف کے مطابق وہ صحابی نہیں بنتے لیکن بعض گذشتہ علماء کی تعریف کے مطابق وہ صحابی بن جاتے ہیں۔ان