مضامین بشیر (جلد 2) — Page 764
مضامین بشیر ۷۶۴ کے نتیجہ میں وہ دیکھے گا کہ بالآخر اس کی روح میں بھی سوز و گداز کی کیفیت پیدا ہونی شروع ہو جائے گی کیونکہ روح جسم کے تاثرات سے آزاد نہیں ہو سکتی۔پس چوتھا گر یہ ہے کہ نماز میں اگر دل کی توجہ نہیں پیدا ہوتی اور شیطان روح کے صحیح ذوق و شوق کے رستہ میں حائل رہتا ہے تو نماز پڑھنے والے کو چاہئے کہ وہ تکلف کے ساتھ اپنے جسم میں رقت کی صورت پیدا کرے جس کے نتیجہ میں انشاء اللہ روح میں بھی سوز پیدا ہونا شروع ہو جائیگا اور خدا کے فضل سے انسان اس مقصد کو پالے گا جو اس کیلئے نماز میں مقرر کیا گیا ہے۔(۱) اس بات کو سمجھ لینا اور اسے اپنی آنکھوں کے سامنے رکھنا کہ نما ز صرف چند ظاہری ارکان کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے اندر ایک روح بھی رکھی گئی ہے جس کی طرف ہر نمازی کی توجہ رہنی چاہئے اور پھر جوئندہ یا بندہ۔(۲) نماز میں اس یقین کے ساتھ کھڑے ہونا اور اپنے دل میں یہ احساس پیدا کرنا کہ میں اس وقت اپنے سامنے خدا کو دیکھ رہا ہوں یا کم از کم یہ کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے تا کہ اس کے نتیجہ میں صحیح قلبی کیفیت پیدا ہو جائے۔(۳) نماز کو اپنی ایسی دعاؤں کے ساتھ معمور کرنا جو انسان کی حقیقی اور مضطربانہ ضرورتوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں تا کہ یہ دعائیں اس کے اندر ایک تڑپ اور بے چینی کی کیفیت پیدا کر دیں۔(۴) اگر روح میں رقت کی کیفیت نہ پیدا ہو تو کم از کم جسم میں تکلف کے ساتھ رقت کی صورت پیدا کرنا جس کے نتیجہ میں بالآخر روح میں بھی رقت کی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر ہماری یہ سوال کرنے والی بہن اور ان کے ساتھ کی دوسری بہنیں فی الحال ان چارنسخوں کو آزمائیں گی تو انشاء اللہ خدا اپنے فضل سے ان کی مشکل کو حل فرما دے گالیکن جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں اگر بالفرض پھر بھی ان کی نماز میں ذوق وشوق کی کیفیت نہ پیدا ہو تو ہرگز نہ گھبرائیں بلکہ شیطان کے مقابلہ میں لگی رہیں۔خواہ یہ مقابلہ موت تک جاری رکھنا پڑے۔کیونکہ بہر حال خدا کی طرف سے شیطان کے ساتھ لڑتے ہوئے جان دینا اس بات سے بدر جہا بہتر ہے کہ انسان شیطان کے سامنے ہتھیار ڈال کر بیٹھ جائے اور نعوذ باللہ اپنے ہاتھ سے خدا کے جھنڈے کو سرنگوں کر دے۔اور سب سے آخری بات وہی ہے جو میں شروع میں کہہ آیا ہوں کہ اگر بالفرض نماز میں مزا نہ بھی آئے تو پھر بھی انسان کا فرض ہے کہ اسے ایک روحانی دوائی سمجھتے ہوئے استعمال کرتا رہے کیونکہ دوائی بہر حال مفید ہوتی ہے خواہ وہ میٹھی لگے یا کہ کڑوی۔وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمین۔( مطبوعه الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۵۰ء)