مضامین بشیر (جلد 2) — Page 763
- ۷۶۳ مضامین بشیر کیفیت پیدا کر دیتی ہیں مثلاً دنیا کے میدان میں کبھی کسی شخص کو یا اس کے کسی عزیز کو کوئی خطرناک بیماری لاحق ہوئی ہے جس کی وجہ سے اسے جان کے لالے پڑ جاتے ہیں اور کبھی مالی تنگی اور قرض کی مصیبت سر پر منڈلاتی ہے اور کبھی کسی مقدمہ کا بھوت پریشان کر رہا ہوتا ہے اور کبھی اولاد سے محرومی کا دکھ ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح دین کے معاملات میں کئی قسم کی پریشانیاں ستاتی ہیں جن میں سے ایک یہی دین سے بے رغبتی کا احساس یا عبادت میں لذت کی کمی کا خیال ہے جو نیک دل لوگوں کو پریشان رکھتا ہے وغیرہ وغیرہ۔تو ایسی سب حالتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کو چاہئے کہ نماز میں دعا کی عادت ڈالے اور رقت بھرے دل اور تڑپتی ہوئی روح کے ساتھ خدا کے آستانہ پر گرنے کا عادی بنے اور فرماتے ہیں کہ یہ وہ گودا ہے جو نماز کی کھوکھلی ہڈی میں زندگی کی جان پیدا کر دے گا۔اس اصل کے ماتحت نماز کی دعاؤں میں ہمیشہ ان دعاؤں کو مقدم کرنا چاہئے جن کی وجہ سے انسان کے دل میں زیادہ تڑپ اور زیادہ اضطراب پیدا ہو تا کہ اس کی وجہ سے ہماری نماز زندگی کے جوش مارتے ہوئے خون سے مرتعش ہونے لگے۔بھلا کوئی انسان یہ خیال کر سکتا ہے کہ اگر مثلاً اسے یا اس کے کسی نہایت قریبی عزیز کو کوئی سخت خطرناک اور مہلک بیماری لاحق ہو اور وہ اس کیلئے مضطرب ہو کر نماز میں دعا مانگے تو پھر بھی اس کی نماز ایک محض رسمی اور بے جان چیز رہ سکتی ہے؟ ہرگز نہیں ہر گز نہیں بلکہ مضطر بانہ دعاؤں والی نماز روح کو اس طرح پگھلا کر رکھ دیتی ہے کہ جس طرح سونا کٹھالی میں پڑ کر پکھلتا ہے۔پس نماز میں توجہ اور شوق پیدا کرنے کا یہ ایک نہایت ہی عمدہ نسخہ ہے کہ انسان اپنی نماز کیلئے اپنی ان ضروریات کی دعاؤں کو چنے جن میں اسے حقیقی تکلیف اور اضطراب در پیش ہو۔اس کے بعد وہ دیکھے گا کہ اس کی ہر نماز ایک جاندار حقیقت بن کر اس کے رگ وریشہ میں سرایت کرنے لگ جائے گی۔چوتھا علاج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تجویز کردہ ہے۔حضور ا کثر فرمایا کرتے تھے اور کئی جگہ لکھا بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کی ازلی حکمت نے جسم اور روح کے درمیان ایک نہایت گہرا اور لطیف جوڑ قائم کر رکھا ہے جس کے نتیجہ میں جسم کی حالت کا اثر روح پر پڑتا ہے اور روح کی حالت کا اثر جسم پر پڑتا ہے مثلاً اگر جسم بیمار ہو تو روح اپنی ذات میں چوکس ہونے کے باوجود مضمحل ہونے لگتی ہے اور اگر روح کو کوئی صدمہ پہنچے تو جسم میں بھی باوجود اس کے کہ وہ اپنی ذات میں بالکل صحیح سالم ہوتا ہے ، دکھ اور رنج وغم کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اس لطیف فطری فلسفہ کے ماتحت حضور فرمایا کرتے تھے کہ اگر نماز اور دعا کے وقت انسان کے دل میں رقت اور سوز وگداز کی کیفیت نہ پیدا ہو تو اسے چاہئے کہ تکلف کے ساتھ اپنے جسم میں رقت کی ظاہری صورت پیدا کرنے کی کوشش کرے جس