مضامین بشیر (جلد 2) — Page 710
مضامین بشیر یعنی آنحضرت ملے ہمیں اس طرح ہر امر میں استخارہ کی تاکید فرماتے اور اس کی تعلیم دیتے تھے جس طرح کہ آپ قرآنی صورتوں کے متعلق ہمیں تاکید کرتے اور تعلیم دیتے تھے۔“ پھر یہی صحابی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت علیہ اس بات پر بھی زور دیا کرتے تھے کہ انسان کو جو اہم کام بھی پیش آئے اور وہ اس کام کی خوبی محسوس کر کے اس کا ارادہ کرے تو اس کے متعلق اسے چاہئے کہ استخارہ کرنے کے بعد قدم اٹھائے تا کہ اس کے فیصلہ میں صرف اس کی اپنی ہی محدود عقل اور سوچ کا دخل نہ رہے بلکہ وہ خدائی علم کی روشنی سے فائدہ اٹھا کر اپنے لئے برکت اور رحمت کا راستہ تجویز کر سکے۔ظاہر ہے کہ انسان کا علم نہایت محدود اور نہایت ناقص ہے وہ بسا اوقات اس بات کو بھی نہیں جانتا کہ اسے ایک گھنٹہ بعد کیا بات پیش آنے والی ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ وہ اس بات کو بھی نہیں جانتا کہ اسے آج کے بعد کل کیا بات پیش آنے والی ہے بلکہ وہ اس بات کو بھی نہیں جانتا کہ اسے ایک منٹ یا ایک سیکنڈ یا ایک سیکنڈ کے بھی قلیل ترین جزو کے بعد کیا بات پیش آنے والی ہے۔اور پھر وہ یہ بات بھی نہیں جانتا کہ جو بات اس وقت موجود تو ہے مگر اس کی آنکھ سے اوجھل ہے وہ ظاہر ہونے پر اس کی زندگی پر کیا اثر ڈالے گی۔پس جب انسان کا علم اتنا ناقص اور اتنا محدود ہے تو ضروری ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے غیر محدود علم سے برکت حاصل کرنے کا طریق اختیار کرے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں استخارہ ہے۔کئی باتیں ہمیں بظاہر اچھی نظر آتی ہیں لیکن دراصل وہ نقصان دہ ہوتی ہیں کئی باتیں اپنی ذات میں اچھی ہوتی ہیں۔باقی صفحہ سابق :۔استخارہ کے متعلق میرا جو مضمون الفضل مورخہ ۴ نومبر میں شائع ہوا ہے اس میں جو حوالہ استخارہ کی اہمیت کے متعلق درج کیا گیا ہے وہ افسوس ہے کہ کچھ کا تب کی غلطی کی وجہ سے اور کچھ میری غلطی کی وجہ سے غلط درج ہو گیا ہے اصل حوالہ یہ ہے جو ذیل میں درج کی جاتا ہے: عن جابر قال كان رسول الله له يعلمنا - ۸۹ صلى الله الاستخارة في الامور كما يعلمنا السُّورة من القرآن إِذَا هَمَّ أحدُكُم بالامر فليركح ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل _ یعنی ” جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ہمیں تمام اہم امور میں ایسی تاکید کے ساتھ استخارہ کی تعلیم دیتے تھے جس طرح کہ آپ قرآنی سورتوں کے متعلق تعلیم دیا کرتے تھے اور آپ فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی اہم امر کا قصد کرے تو اسے چاہئے کہ دو رکعت نفل نماز پڑھے اور اس نماز میں ذیل کے طریق پر استخارہ کی دعا مانگے ( آگے استخارہ کی دعا درج ہے جو میرے مضمون میں مفصل بیان ہو چکی ہے ) اُمید ہے دوست میری اس تصیح کے مطابق مضمون میں صحت ( مطبوعه الفضل ۶ نومبر ۱۹۴۹ء) کرلیں گے۔