مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 711 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 711

211 مضامین بشیر لیکن ہمارے مناسب حال نہیں ہوتیں۔اور پھر کئی باتیں آج اچھی ہوتی ہیں لیکن کل کو ہمارے حالات کے بدل جانے کی وجہ سے یا خود اس بات کے حالات میں تبدیلی آجانے سے وہ ہمارے لئے اچھی نہیں رہتیں۔اس لئے ضرور ہے کہ ہر اہم امر کا فیصلہ کرتے ہوئے خواہ وہ دینی ہو یا دنیاوی، ہم خدا سے دعا کریں کہ اے ہمارے آسمانی آقا جو ہر قسم کے ذاتی اور مکانی غیب کا علم رکھتا ہے تو اپنی طرف سے ہمیں روشنی اور ہدایت عطا کر اور ہمیں اس رستہ پر ڈال دے جو تیرے علم میں ہمارے لئے آج بھی بہتر ہے اور کل بھی بہتر رہنے والا ہے ، اور ہمیں اس راستہ سے بچا جو ہمارے لئے بہتر نہیں یا آج تو بہتر ہے مگر کل کو بہتر نہیں رہے گا۔آنحضرت ﷺ نے استخارہ کے متعلق صرف یہ اصولی ہدایت ہی نہیں دی کہ ہرا ہم امر کے پیش آنے پر استخارہ کیا کرو بلکہ کمال شفقت سے آپ نے ہمیں استخارہ کے الفاظ بھی سکھائے ہیں جو ایک ایسی جامع اور بابرکت دعا کی صورت میں ہیں کہ کسی دوسرے مذہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔چنانچہ حضرت جابر ر وایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم کسی اہم امر کا فیصلہ کر وتو دور رکعت نفل نماز پڑھ کر یہ دعا کیا کرو کہ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلمِكَ وَاسْتَقدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسَالُكَ مِن فَضلِكَ العَظِيمِ ، فَإِنَّكَ تَقدِرُ وَلَا أَقدِرُ، وَتَعلَمُ ولا أعلَمُ وَأَنتَ عَلَّامُ الغَيُّوبِ۔اَللَّهُمَّ إِن كُنتَ تَعلَمُ أَنَّ هذا الأمر خَيرٌ لِي فِي دِينِي وَ مَعَاشِي وَعَاقِبَةِ امرى۔أَوْقَالَ: وَآجَلِهِ فَاقدره لِي وَيَسِرهُ لِى ثُمَّ بارك لى فيه وإِن كُنتَ تَعْلَمُ أَنَّ هذ الأمرَ شَرٌّ لِى فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمرِى وآجله۔فَاصِرِ فَهُ عَنِّى وَاصِرِفْنِي عَنهُ واقدر لِى الخَيرَ حَيثُ كَانَ ثُمَّ أَرضِنِي بِهِ - یعنی اے میرے خدا میں تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں تیرے علم کے ذریعہ سے اور تجھ سے طاقت چاہتا ہوں تیری قدرت کے ذریعہ سے اور تیرے جاری فضل کے خزانہ سے کچھ حصہ مانگتا ہوں۔کیونکہ تو کامل قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا اور تو کامل علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا اور یقینا تو ہی تمام مکانی اور زمانی غیوں کا جاننے والا ہے۔پس اے میرے آقا اگر تو جانتا ہے کہ یہ امر جو مجھے اس وقت در پیش ہے ، یہ میرے دین کے لحاظ سے اور دنیا کے لحاظ سے اور حاضر کے لحاظ سے اور مستقبل کے لحاظ سے میرے لئے بہتر ہے تو تو مجھے اس کی تو فیق عطا کر