مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 709 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 709

2۔9 مضامین بشیر اسلام میں استخارہ کا بابرکت نظام مسنون استخارہ کی ضروری شرائط چند دن ہوئے ایک عزیز نے مجھے خط لکھا تھا کہ اس وقت جماعت میں فلاں فلاں نیک تحریک ہوئی ہے کیا میں اس میں شامل ہو جاؤں؟ یا شاید یہ اطلاع دی تھی کہ میں اس میں شامل ہو رہا ہوں۔میں نے اسے جواب دیا کہ تحریک تو یقینا نیک اور بابرکت ہے لیکن کسی تحریک کے بابرکت ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ لازماً ہر فرد کے لئے بھی بابرکت سمجھی جائے۔کیونکہ ہر شخص کے حالات جدا ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ جو بات ایک شخص کے لئے بابرکت ہو۔یا جو بات کثرت کے لئے بابرکت ہے وہ لازماً قلت کے لئے بھی بابرکت ہو اور پھر بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر آج حالات ایک رنگ میں ہیں تو کچھ عرصہ کے بعد دوسرا رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔اس لئے میں نے اس عزیز کو لکھا کہ اس تحریک کے بابرکت ہونے کے باوجود یہ ضروری ہے کہ آپ اس معاملہ میں مسنون طریق پر استخارہ کریں اور استخارہ کے بعد جس بات پر اللہ تعالیٰ شرح صدر عطا کرے اسے اختیار کریں کہ یہی اسلام میں سعادت اور سلامت روی کا رستہ ہے۔اس عزیز کے اس استصواب اور اس پر اپنے جواب سے مجھے تحریک ہوئی کہ میں اس معاملہ میں الفضل کے ذریعہ بھی استخارہ کے مسئلہ کے متعلق ایک مختصر نوٹ شائع کرا دوں تا اگر خدا چاہے تو میرا یہ نوٹ دوسرے دوستوں کے لئے بھی مفید ثابت ہو اور وہ استخارہ کے بابرکت نظام سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاسکیں۔سو سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہئے کہ استخارہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ یہ وہ با برکت نظام ہے جس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے انتہائی تاکید فرمائی ہے۔چنانچہ ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ:۔كان رسول الله صلى الله عليه وسلم الاستخاره في الامدكلها كما يعلمها سورة في القرآن۔() استخارہ والے مضمون میں ایک غلطی کی اصلاح باقی اگلے صفحہ پر