مضامین بشیر (جلد 2) — Page 689
۶۸۹ مضامین بشیر ( مگر حق یہ ہے کہ ) خدا کے فضل نے اس وقت دعا کی ایسی توفیق عطا کی جو صرف خاص موقعوں پر ہی عطا ہوا کرتی ہے۔فالحمد لله على ذالك ان الفضل بيد الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم بالآخر میں اس موقع پر دوستوں کو اس بات کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ربوہ بیشک اس وقت ہمارا مرکز قرار پایا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے اسے کئی جہتوں سے اپنی برکتوں سے نوازا ہے۔اور انشاء اللہ آئندہ بھی نوازے گا لیکن ربوہ کا تصور اور ربوہ کا اکرام ہمیں اپنے دائگی اور ابدی مرکز کی طرف سے غافل نہیں کر سکتا۔جو قادیان کے وجود میں خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کیلئے مقدر کر رکھا ہے۔جماعت کا دائمی مرکز صرف قادیان ہے۔اور قادیان ہی رہے گا۔اور ہمیں اپنی دعاؤں اور اپنی کوششوں اور اپنی تو جہات میں قادیان کو اور اس کی واپسی کے سوال کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔بہت سے لوگ وقتی ماحول کے تصور میں کھوئے جا کر ابدی باتوں کو بھلا دیا کرتے ہیں۔اسی لئے جب مدینہ کی ہجرت ہوئی۔تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہوشیار کرنے کے لئے فرمایا کہ: وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ مَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ وَ مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلَّوْا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِتَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ د یعنی اے رسول تم اسلام کی ترقی اور استحکام کیلئے جو تد بیر بھی اختیار کرو اور جس سفر پر بھی نکلو اس میں اپنی توجہ کا مرکزی نقطہ مسجد حرام یعنی مکہ کے واپس حاصل کرنے کو رکھو۔یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک دائمی صداقت ہے جسے ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔اور یا درکھو کہ اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے ہاں ! ہاں ! جس سفر پر بھی تم نکلو اپنی توجہ کا مرکز ہمیشہ مسجد حرام کو رکھو۔اور تمہارے ساتھ دوسرے مسلمان بھی اسی کو اپنی توجہ کا مرکزی نقطہ بنا ئیں۔تا کہ تمہارے خلاف لوگوں کو اعتراض باقی نہ رہے ) کہ انہوں نے اپنے مذہبی مرکز کو کھو دیا ہے ) باقی ظالم لوگ تو بہر حال اعتراض کرتے ہی رہتے ہیں۔پس تم ان لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میری خشیت کا جذبہ اپنے دل میں رکھو اور میں اس ذریعہ سے اپنی نعمت تم AI