مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 688 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 688

مضامین بشیر ۶۸۸ بنیا د رکھی جائے گی۔آپ لوگ اپنی جگہ اس وقت دعا کا انتظام کر کے اس روحانی تقریب میں معنوی شرکت اختیار کریں اور تار کے علاوہ مزید احتیاط کے طور پر قادیان فون بھی کرا دیا اور اس بات کی تسلی کر لی کہ میرا پیغام اہل قادیان کو پہنچ گیا ہے۔اور انہوں نے اسے اچھی طرح سمجھ بھی لیا ہے اس کے بعد میں نے رتن باغ اور جو د ہامل بلڈ نگ لاہور میں ٹھہرے ہوئے عزیزوں اور دوستوں کو انفرادی طور به پر اطلاع دی کہ وہ بھی اس وقت اپنی جگہ دعا میں مصروف رہ کر اس مبارک تقریب میں شرکت اختیار کریں۔اس فرض کی ادائیگی کے بعد میں نے کوشش کی کہ اگر کسی ایسی سواری کا انتظام ہو جائے جو مجھے اس تقریب کی شمولیت کیلئے ربوہ لے جائے۔اور پھر رات کو لاہور واپس پہنچا دے تو میں اس سے فائدہ اٹھاؤں مگر افسوس ہے کہ خواہش اور کوشش کے باوجود اس کا انتظام نہیں ہوسکا۔گو بعد میں مجھے پتہ لگا کہ لاہور سے چار پرائیویٹ موٹر میں اس تقریب کی شمولیت کے خیال سے ربوہ گئی تھیں لیکن نہ تو مجھے ہی وقت پر اطلاع ہوئی اور نہ ہی غالباً ان دوستوں کو معلوم ہوسکا کہ میرے دل میں بھی اس شمولیت کی خواہش ہے اور اس طرح یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا۔مگر حق یہ ہے کہ میرے رحیم و کریم خدا نے اس کمی کو اپنے فضل سے کافی حد تک پورا فرما دیا، اور وہ اس طرح کہ عصر کی نماز کے بعد میں رتن باغ کے بالائی صحن میں چلا گیا اور وہاں غروب آفتاب کے بعد تک علیحدگی میں دعا کرتا رہا۔اور خدا نے اپنے فضل سے اس وقت دعا کے لئے کیفیت بھی بہت اچھی پیدا کر دی۔کیونکہ اس وقت میرے دل میں یہ احساس تھا کہ یہ حج کا دن ہے جب کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی روحیں مکہ کے مبارک اور مقدس مقامات کی طرف جھک رہی ہیں۔اور پھر یہ وقت بھی وہ ہے جو حج کے مناسک میں عرفات کے وقوف کا وقت کہلاتا ہے جسے آنحضرت علی نے اسی طرح حج کا مرکزی نقطہ قرار دیا ہے جس طرح نماز کی ہر رکعت کا مرکزی نقطہ رکوع کو قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جس نے عرفات کے وقوف کا وقت پالیا اس نے گویا مکمل حج پالیا اس میدان میں حاجی لوگ عصر کی نماز کے بعد سے لیکر مغرب کی نماز کے وقت تک ذوالحجہ کی ۹ تاریخ کو کھڑے ہو کر (اور یہ کھڑے ہونا ہی وقوف کہلاتا ہے ) خدا کے حضور خاص دعا ئیں کرتے ہیں۔پس میرے دل میں ایک طرف تو یہ تصور تھا کہ یہ وہ دن اور یہ وہ وقت ہے جبکہ خدا کے رستہ میں نکلنے والے حاجی عرفات کے میدان میں وقوف کر کے خدا کے حضور اپنی عبادت کا ہدیہ پیش کرتے ہیں اور دعا کے ذریعہ خدا کے فضلوں اور رحمتوں کے طالب ہوتے ہیں اور دوسری طرف میرے دل میں یہ تصور تھا کہ یہ وہ وقت ہے کہ جب جماعت احمدیہ کے قائمقام مرکز ربوہ میں خلیفہ وقت اور امام جماعت کے ہاتھوں سے ربوہ کی پہلی اور خاص مسجد کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔اس دہرے تصور نے