مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 690 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 690

مضامین بشیر ۶۹۰ پر پوری کرنا چاہتا ہوں تا کہ تم ترقی کے سیدھے رستہ کو پالو۔“ ۸۲ پس ضروری ہے کہ قادیان کا دائگی مرکز ہمیشہ ہماری آنکھوں کے سامنے رہے اوراسے واپس حاصل کرنے کے متعلق ہماری جد و جہد اس وقت تک قائم رہے کہ جب خدا کا یہ ارشاد پورا ہو کہ : إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادَّكَ إِلى مَعَادٍ۔بلکہ قادیان کا سوال تو اس جہت سے اور بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مکہ واپس حاصل کرنے کے حکم کے با وجود آنحضرت علی کی مدینہ کی ہجرت دائمی ہجرت تھی جس کے بعد آپ نے یا آپ کے خلفاء نے مکہ میں واپس جا کر آباد نہیں ہونا تھا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہی ٹھہرے رہے اور مدینہ میں ہی دفن ہوئے اور مدینہ ہی خلفاء راشدین کا دارالخلافہ رہا لیکن اس کے مقابل پر قادیان نہ صرف خدا کے فضل سے واپس ہوگا بلکہ وہ جماعت کا اور ساری دنیا کی جماعت کا دائمی مرکز بھی رہے گا۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے رسالہ الوصیت میں فرماتے ہیں کہ۔قادیان خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے یہ ضروری ہوگا کہ مقام اس انجمن کا یعنی " ۱۸۳ سلسلہ کی انجمن کا ہمیشہ قادیان رہے کیونکہ خدا نے اسے برکت دی ہے۔پس لا ریب اس وقت ربوہ ہمارا مرکز ہے اور اس وقتی مرکزیت کے نتیجہ میں اسے یقیناً خاص برکت بھی حاصل ہوگئی ہے اور قادیان کی بحالی کے بعد بھی وہ ایک جزوی اور مقامی مرکز رہے گا۔مگر ہمارا ابدی اور عالمگیر مرکز بہر حال قادیان ہے اور اس کے حصول کی طرف ہماری روحیں خدا کے فضل و رحمت کی طالب ہو کر جھکی رہنی چاہئیں۔آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔( مطبوعه الفضل ۹ / اکتوبر ۱۹۴۹ء)