مضامین بشیر (جلد 2) — Page 687
جب ۶۸۷ مضامین بشیر حضور تین اکتوبر یعنی 9 ذوالحجہ کی تاریخ کو جو دو شنبہ کا دن تھا عصر کی نماز کے بعد ربوہ میں مسجد کی بنیا درکھیں تو اس وقت جماعت کے دوسرے دوست بھی اپنی اپنی جگہ دعاؤں میں وقت گزاریں تا کہ جماعت کے بڑے سے بڑے حصہ کی مجموعی دعائیں خدا کے زیادہ سے زیادہ فضل اور زیادہ سے زیادہ رحمت اور زیادہ سے زیادہ برکت کی جاذب ہوسکیں۔اس کے مطابق مجھے معلوم ہوا ہے کہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے مختلف جماعتوں کو اخباری اعلان کے علاوہ انفرادی تاروں کے ذریعہ بھی اطلاع دی گئی تھی۔ان تاروں کے نتیجہ میں بعض جماعتوں کے نمائندے تو ربوہ پہنچ گئے۔اور خود موقع پر شریک ہوئے لیکن اکثر احباب اپنی اپنی جگہ ہی دعا کا انتظام کر کے روحانی اور معنوی شرکت کے وارث بنے اور ان میں سے بعض یقیناً آنحضرت ﷺ کے اس فرمان کے مصداق بھی قرار پائے ہوں گے۔جو آپ نے اپنے ایک دینی سفر کے دوران میں اپنے ہمسفر صحابہ سے فرمایا تھا آپ نے فرمایا: و تم اس وقت کوئی قدم نہیں اٹھاتے اور کوئی وادی طے نہیں کرتے مگر مدینہ میں بعض ٹھہرے ہوئے لوگ تمہارے ثواب کے ساتھ برابر کے شریک ہوتے چلے جاتے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ دینی خدمت کے لئے قدم تو ہمارا اُٹھ رہا ہے اور ثواب میں مدینہ کے لوگ بھی شریک ہو رہے ہیں جو نہ اپنے گھر سے نکلے اور نہ ان کے قدم سفر کی گرد سے آلودہ ہوئے آپ نے فرمایا: یہ ٹھیک ہے کہ تم نے اس موقع کو پایا لیکن جن لوگوں کا میں ذکر کر رہا ہوں۔وہ ایسے لوگ ہیں جو تمہاری طرح دل میں خواہش رکھتے تھے کہ اس سفر میں شریک ہوں مگر انہیں کسی معذوری نے جو ان کے بس کی نہیں تھی روک دیا۔پس وہ اپنی نیک خواہش اور دلی جذبہ کی وجہ سے اس ثواب میں برابر کے شریک ہیں۔“ پس جہاں اس تقریب میں عملاً شامل ہونے والے دوستوں نے ثواب اور برکت سے حصہ پایا۔وہاں میں یقین رکھتا ہوں کہ جن لوگوں کو اس موقع کی شرکت کی خواہش تھی لیکن وہ کسی معذوری کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے اور اپنی اپنی جگہ پر دعا میں مصروف ہے وہ بھی خدا کے فضل سے ثواب سے محروم نہیں رہے۔بلکہ ہمارے آقا کے فرمان کے مطابق اسی ثواب کے مستحق بنے جو موقع کی شرکت والوں نے حاصل کیا۔مجھے جب الفضل کے اعلان کے ذریعہ اس بات کا علم ہوا تو میں نے سب سے اول تو قادیان تار بھجوایا اور وہاں کے دوستوں کو اطلاع دی کہ حج والے دن ساڑھے پانچ بجے شام کو ر بوہ میں مسجد کی