مضامین بشیر (جلد 2) — Page 53
۵۳ مضامین بشیر ہی اس مفہوم کی حکمت بھی ظاہر ہو جائے اور یہ بھی پتہ لگ جائے کہ یہ حکم کس قسم کے حالات کے ساتھ مخصوص ہے۔تفصیل اس جمال کی یہ ہے کہ گوجیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے عربی زبان میں مسن کا لفظ بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔جن میں علمی اور فی کا مفہوم بھی شامل ہے۔مگر جیسا کہ بعض ائمہ لغت نے تشریح کی ہے اس کے مخصوص معنی ابتداء غایہ کے ہیں۔یعنی در اصل اس لفظ میں کسی زمانی یا مکانی نقطہ سے ایک کام کی ابتداء کا اظہار یا ایک چیز کا دوسری چیز میں سے نکلنا مراد ہوتا ہے اور اس لفظ کے باقی سب معانی کم و بیش اسی بنیادی مفہوم پر مبنی ہیں اور اسی کے اردگرد چکر لگاتے ہیں۔چنانچہ آیت زیر بحث میں جو علی اور فی کے الفاظ ترک کر کے من کا لفظ اختیار کیا گیا ہے۔وہ بھی اسی حکمت کے ماتحت ہے کہ تا آیت کے مفہوم میں من کے بنیادی مفہوم کو داخل کر کے ایک وسیع اور لطیف معنی پیدا کر دیئے جائیں۔اس اصول کے ماتحت آیت اُولِی الْأَمْرِ مِنْكُمْ کے صحیح معنی یہ ہوں گے کہ اے مسلما نو تم پر ایسے حاکموں کی فرمانبرداری فرض ہے جو تم سے حاکم بنے ہیں۔یعنی ان کا أُولِی الْأَمْرِ ہونا یا بالفاظ دیگر ان کی امارت غاصبانہ اور جابرانہ رنگ نہیں رکھتی بلکہ تم نے ان کی حکومت کو قو لا یا فعلاً تسلیم کر کے گویا اپنا بنا لیا ہوا ہے۔ظاہر ہے کہ انسان کسی حکومت کو امکانا د وطرح ہی قبول کر سکتا ہے یعنی یا تو وہ اسے قولاً تسلیم کر لیتا ہے اور منہ سے کہہ کر یا قلم سے لکھ کر مان لیتا ہے جیسا کہ معاہدات وغیرہ کی صورت میں ہوتا ہے اور یا وہ قولاً تو تسلیم نہیں کرتا مگر عملاً تسلیم کر کے اس کی ماتحتی کو خاموشی کے ساتھ قبول کر لیتا ہے۔جیسا کہ عموماً مفتوح ممالک کی صورت میں ہوتا ہے۔اور زیر بحث قرآنی آیت نے ان دونوں صورتوں کو اپنے اندر جمع کر لیا ہے۔کیونکہ عربی محاورہ کے مطابق یہ دونوں صورتیں مِنْكُمُ کے مفہوم میں شامل ہیں جس میں ایک چیز کا دوسری چیز سے نکلنا مراد ہوتا ہے۔پس الفاظ أُولِي الْأَمْرِ مِنْگر کے پورے معنی یہ ہوئے کہ : اوّل : وہ حاکم جن کی حکومت کو تم قولاً یعنی صراحنا تسلیم کر چکے ہو۔دوم : وہ حاکم جن کی حکومت کو تم عملاً تسلیم کر چکے ہو اور اس کے ماتحت رہنے پر خاموشی کے ساتھ راضی ہو چکے ہو۔اوپر کے بیان سے ظاہر ہے کہ در حقیقت یہ آیت ایک وسیع اصولی رنگ رکھتی ہے اور اس میں اسلامی حکومت یا غیر اسلامی حکومت کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ جس حکومت کو بھی مسلمان تسلیم کر لیں۔خواہ وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی اور خواہ وہ اسے قولاً تسلیم کریں یا کہ عملاً ، اس کی اطاعت ان پر فرض ہو جاتی ہے اور اس کے خلاف بغاوت کرنا اور اس کے قانونوں کو توڑنا ان کے لئے جائز نہیں رہتا۔پس اگر