مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 54 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 54

مضامین بشیر ۵۴ ایک حاکم مسلمان تو ہے مگر وہ جبر وا کراہ کے طریق پر دوسرے مسلمانوں کو اپنی ماتحتی میں لانا چاہتا ہے تو اس آیت کے ماتحت اس کی حکومت ناجائز ہوگی۔لیکن اگر ایک حاکم غیر مسلمان ہے مگر بعض مسلمانوں نے اس کی حکومت کو قولاً یا عملاً تسلیم کر لیا ہے تو اس کی حکومت جائز ہوگی۔کیونکہ جہاں مقدم الذکر حکومت منکم کے مفہوم کے صریح خلاف ہے۔وہاں موخر الذکر حکومت منتحر کے مفہوم کے عین مطابق اور موافق ہے۔یہ وہ لطیف فلسفہ ہے جو صرف علیکم یا فیکم کے الفاظ سے ادا نہیں ہوسکتا تھا اور اسی لئے قرآن شریف نے ان معروف الفاظ کو چھوڑ کر مِنْكُم کا لفظ اختیار کیا ہے۔تا اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ ہر وہ حکومت جو مسلمانوں کی تسلیم شدہ ہے وہ گویا انہی میں سے نکلی ہوئی چیز ہے۔خواہ وہ کوئی ہو۔اس لئے اس کے خلاف بغاوت کرنا ہرگز جائز نہیں۔کیونکہ اگر ایسی حکومت کے خلاف سراٹھانا جائز قرار دیا جائے تو پھر امنِ عامہ اور تہذیب و تمدن کی تمام تسلیم شدہ بنیادیں تباہ ہو جاتی ہیں اور فتنہ وفساد اور جنگ وجدال کا ایسا رستہ کھلتا ہے جو پھر کسی طرح بند نہیں کیا جاسکتا۔ہاں اگر کوئی قوم کسی حکومت کو اپنے لئے صریحاً اس قدر ظالمانہ خیال کرتی ہے کہ اس کے ماتحت رہنا اس کے لئے بالکل ناممکن ہو جاتا ہے۔تو اس صورت میں اس کے لئے ہجرت کا رستہ کھلا ہے جیسا کہ حضرت موسی کے ماتحت بنی اسرائیل نے مصر سے ہجرت کی یا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماتحت مسلمانوں نے مکہ سے ہجرت کی۔مگر ایک تسلیم شدہ حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے بغاوت یا قانون شکنی یا فساد کا طریق اختیار کرنا کسی صورت میں جائز نہیں۔خواہ یہ حکومت اسلامی ہو یا غیر اسلامی۔یہ وہ نظریہ ہے جو نہ صرف قرآنی تعلیم کی رو سے قطعی طور پر ثابت ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی اسوہ بھی اس پر ایک زبر دست شاہد ہے۔فبات حدیث بعد ذالک یو منون۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی حکومت اپنی کسی مظلوم رعایا کو ہجرت کر نے سے زبر دستی رو کے تو اس صورت میں اسلام کیا تعلیم دیتا ہے؟ سو اس کے متعلق جاننا چاہیئے کہ ایسی ظالم حکومت کے خلاف اس کے اندر رہتے ہوئے بھی سر اٹھانا جائز ہوگا۔کیونکہ جو حکومت ایک طرف اپنی رعایا پر ظلم کرتی ہے اور دوسری طرف اسے ہجرت کرنے سے بھی روکتی ہے تو وہ گویا مخلوق خدا پر انصاف اور خود حفاظتی کے سارے دروازے بند کرنا چاہتی ہے اور خدا کا رحیمانہ قانون اس اندھیر نگری کی اجازت نہیں دے سکتا۔چنانچہ جب فرعون نے بنی اسرائیل کو اپنی حکومت میں انتہائی مظالم کا نشانہ بنایا اور پھر جب وہ ان مظالم سے تنگ آکر ملک سے باہر جانے لگے تو اس نے انہیں زبر دستی روکنا چاہا تو خدا نے فرعون کے اس فعل کو کھلی کھلی بغاوت اور سرکشی قرار دیا۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے کہ : فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنَ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَ عَدْوا ۳۲