مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 52 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 52

مضامین بشیر ۵۲ فساد کے مرتکب نہیں ہوئے۔کیونکہ اسلام کا یہ صریح حکم ہے کہ : - وَ اللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ - د یعنی خدا تعالیٰ فساد اور امن شکنی کو کسی صورت میں پسند نہیں کرتا۔“ کیا حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہم السلام اور بالآخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کی یہ واضح مثالیں اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ خدائی شریعت اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتی کہ ایک مسلمان محض یہ آڑ لے کر کہ وہ ایک غیر اسلامی حکومت کے ماتحت ہے ، ملک میں بغاوت اور قانون شکنی کا مرتکب ہو۔اور حصول آزادی کی جستجو میں فساد کا بیج بوتا پھرے۔ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔اسلام بے شک یہ کہتا بلکہ حکم دیتا ہے کہ تم دعوۃ الی الحق اور تبلیغ اور تنظیم اور دوسرے پُر امن ذرائع سے اسلام کے قلعہ کو مضبوط کرتے جاؤ۔حتی کہ تمہارا ملک بغاوت کے ذریعہ نہیں بلکہ خود اسلام کی اندرونی روحانی طاقت کے ذریعہ کفر کی غلامی سے نکل کر اسلام کی غلامی میں آجائے مگر وہ کسی صورت میں فساد اور امن شکنی اور بغاوت کی اجازت نہیں دیتا اور قرآنی ارشاد کے علاوہ جلیل القدر انبیاء کا اسوہ اس طریق پر ایک زبر دست شاہد ہے۔باقی رہا یہ خیال کہ قرآنی آیت میں اُولِی الْأَمْرِ مِنْكُم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔جس کے یہ معنی ہیں کہ جو تم میں سے تمہارا حاکم ہے اس کی فرمانبرداری اختیار کرو اور گویا کسی اور کی نہ کرو۔سو یہ خیال بالکل بودا اور کمزور ہے کیونکہ اول تو عربی زبان میں مین کا لفظ علی اور فی کے معنوں میں بھی آتا ہے۔اور اس طرح أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ کے معنی یہ بنتے ہیں کہ جو لوگ تم پر حاکم ہیں یا جو لوگ تمہارے اندر بطور حاکم کے ہیں ان کی فرمانبرداری کرو اور اس طرح کوئی اشکال نہیں رہتا۔دوسرے قرآنی کلام کی یہ ایک عجیب و غریب حکمت ہے کہ وہ بعض اوقات ایک عام اور معروف لفظ کو ترک کر کے اس کی جگہ ایک خاص محاورہ اختیار کرتا ہے تا کہ آیت کے معانی میں وسعت پیدا ہو کر ایک نیا اور لطیف رستہ کھل جائے۔یہ طریق قرآن شریف نے بے شمار جگہ استعمال کیا ہے اور یہ اس کی زبان کے کمالوں میں سے ایک خاص کمال ہے کہ ذرا سے رد و بدل سے معانی کا ایک وسیع میدان کھول دیتا ہے۔اب آیت زیر بحث میں عام محاورہ کے لحاظ سے الفاظ یوں ہونے چاہئیں تھے کہ اولی الامر عليكم ( یعنی تم پر جو لوگ حاکم ہوں ) یا اولی الامر فیکم (یعنی تمہارے اندرجو لوگ بطور حاکم ہوں ) مگر قرآن شریف نے ان محاوروں کو ترک کر کے ایک نسبتاً کم معروف محاورہ استعمال کیا ہے۔یعنی اُولِی الْأَمْرِ مِنْكُم ( یعنی جو لوگ تم سے حاکم ہوئے ہوں ) تا کہ نہ صرف ایک ہی لفظ کے ذریعہ علیکم اور فیکم کے الفاظ کا مرکب مفہوم ادا ہو جائے بلکہ اس کے ساتھ