مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 626 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 626

مضامین بشیر ۶۲۶ حالات کو مؤثر ترین انداز میں لوگوں کے سامنے رکھنا وغیرہ وغیرہ۔بیسیوں بلکہ سینکڑوں ایسی باتیں ہیں جو اس ایجاد کو دنیا کی مفید ترین ایجادوں میں جگہ دیتی ہیں۔پس کون دانا انسان ایسا ہوسکتا ہے جو محض سنیما کے وجود کو ممنوع اور حرام قرار دے؟ لیکن قدرت کی یہ عجیب نیرنگی ہے کہ ہر پھول اپنے ساتھ کچھ کانٹے بھی رکھتا ہے اور ہر مفید سے مفید چیز غلط استعمال سے ہلاکت اور لعنت کا موجب بن جاتی ہے۔مثلاً اسلام میں شراب کو یہ کہہ کر منع فرمایا گیا ہے کہ گو اس میں بعض مفید پہلو بھی ہیں مگر اس کا نقصان اس کے فائدہ پر غالب ہے لیکن باوجود اس کے سخت بیماری وغیرہ کی صورت میں اسلام نے طبی مشورے کے ماتحت دوا کے طور پر شراب کے استعمال کو جائز بھی قرار دیا ہے۔اسی سے ملتی جلتی صورت سنیما کی ہے کہ اس کا صحیح استعمال یقیناً خدا کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے مگر اس کا غلط استعمال ایک بھاری لعنت سے کم نہیں۔بلکہ یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ جتنا نقصان آج کل سنیما نے دنیا کو پہو نچایا ہے وہ شائد کسی اور چیز نے نہیں پہونچایا۔مرد و عورت کے جنسی تعلقات کو عریاں تصویروں کی صورت میں یعنی ایسی صورت میں جس میں کہ ان کی ہر حرکت گو یا بالکل ننگی ہو کر سامنے آجاتی ہے، لوگوں کے سامنے لا نا سنیما ہی کا حصہ ہے یہ بات مسلم ہے کہ انسان جہاں اچھے مناظر کے دیکھنے سے فائدہ اٹھاتا اور نیک سبق حاصل کرتا ہے وہاں گندے مناظر کا نقشہ اس کی طبیعت میں گندا اثر چھوڑنے کے بغیر نہیں رہتا۔معصوم لڑکیوں کے اخلاق کو تباہ کرنے کے مناظر ، اغوا کے عریاں واقعات ، جنسی تعلقات کے خلاف اخلاقی پہلو اس طرح آنکھوں کے سامنے لائے جاتے ہیں کہ کچی طبیعت کے لوگ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔پھر سنیما کے ساتھ جو اقتصادی نقصان کا پہلو لگا ہوا ہے وہ بھی ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔نوجوان بچے شروع شروع میں سنیما کے خمار میں مدہوش ہو کر والدین پر پیسوں کے لئے زور دیتے ہیں اور جب والدین ان کے اس مطالبہ کو پورا نہیں کر سکتے تو پھر وہ ناجائز ذرائع سے روپیہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بے شمار طالب علم تو اس لعنت میں اس قدر پھنس جاتے ہیں کہ تعلیم تک کو خیر باد دیتے ہیں۔پس کیا بلحاظ اخلاقی نقصان کے اور کیا بلحاظ اقتصادی نقصان کے اور کیا بلحاظ تعلیمی نقصان کے سنیما کا غلط استعمال ان شیطانی طاقتوں میں سے ایک طاقت ہے جو ہر اچھی سے اچھی سوسائٹی کو تباہ کر سکتی ہے۔پس گوسنیما اپنی ذات میں ناجائز نہیں بلکہ ایک مفید ایجاد ہے۔لیکن اس کا غلط استعمال دنیا کی بڑی لعنتوں میں سے ایک لعنت ہے۔اور افسوس یہ ہے کہ موجودہ زمانوں میں اس کا غلط استعمال اس کے اچھے استعمال پر غالب آ رہا ہے اور مزید افسوس یہ ہے کہ بعض اچھی اور مفید اور سبق آموز