مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 409 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 409

۴۰۹ مضامین بشیر آجاتا ہے جنہیں میں اپنے قارض اور مقروض دوستوں کے لئے درج ذیل کرتا ہوں۔(۱) میں نے لکھا تھا کہ قرضہ لینے والوں نے گزشتہ فسادات میں بھاری نقصان اٹھایا ہے ، میرا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے لوگوں نے نقصان نہیں اٹھایا۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ چونکہ قرضہ لینے والے دوست عموماً کارخانہ دار یا دوکاندار یا دیگر جائیداد منقولہ کے مالک تھے۔جس کی کفالت پر انہوں نے قرض لیا ہوا تھا۔اس لئے لازماً انہیں دوسروں کی نسبت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔(۲) ان مقروض صاحبان میں سے بعض کو پاکستان میں آکر ان کے سابقہ کارخانے یا دوکان یا زمین وغیرہ کے مقابلہ پر کوئی نہ کوئی جائیدا دمل گئی ہے اور بعض کو ابھی تک کچھ نہیں ملا۔پھر وہ جنہیں کچھ جائدا دل گئی ہے۔ان میں سے بعض ایسی حالت میں ہیں کہ ان کی یہ جائیدا دا نہیں ابھی سے معقول آمد دے رہی ہے۔بلکہ بعض کی حالت تو پہلے سے بھی بہتر ہے۔مگر بعض ایسے ہیں کہ ابھی ان کی نئی جائیداد کافی انتظام چاہتی ہے اور یا تو وہ کچھ بھی آمد نہیں دے رہی اور یا نہایت قلیل آمد دے رہی ہے۔(۳) اوپر کے حالات کے ماتحت میں نے لکھا تھا کہ جن مقروض دوستوں کی حالت اچھی ہے ان کا فرض ہے کہ اپنے قرض خواہوں کا قرضہ ادا کریں۔خواہ یکمشت اور خواہ بالاقساط ورنہ خدا کے حضور مجرم ٹھہریں گے۔لیکن جو مقروض دوست ابھی تک واقعی نادار ہیں اور قرضہ کی واپسی کی طاقت بالکل نہیں رکھتے اور حقیقتاً معذور ہیں۔ان کے متعلق ہماری شریعت یہ حکم دیتی ہے کہ فنظرة إلى ميسرة یعنی ایسے لوگوں کو اس وقت تک مہلت ملنی چاہیئے کہ ان کے مالی حالات میں بہتری کی صورت پیدا ہو جائے۔پس اس قسم کے حقیقی معذوروں کو مطالبہ کر کے شرمندہ اور پریشان کرنا برکت کا موجب نہیں ہوسکتا۔(۴) مگر اس کے مقابلہ پر بعض قرضہ دینے والے دوست بھی اس وقت ایسے ہیں کہ وہ اپنی قریباً ساری پونجی دوسروں کو قرضہ دے کر ختم کر چکے تھے۔یا رہن وغیرہ کی صورت میں دوسروں کے سپر دکر چکے تھے اور اب وہ بالکل خالی ہاتھ ہیں اور نہ صرف خالی ہاتھ ہیں۔بلکہ وہ اپنے ضائع شدہ مال کے مقابلہ پر عام حالات میں یہ حق بھی نہیں رکھتے کہ پاکستان میں اپنے نام پر کوئی الائمنٹ کرالیں۔یہ لوگ اس وقت انتہائی تنگی کی حالت میں ہیں۔اور بد قسمتی سے ایسے لوگوں میں بعض ایسی بیوہ عورتیں بھی شامل ہیں جن کے سر پر اس وقت کوئی مرد پرسان حال نہیں۔میں نے لکھا تھا کہ اس قسم کے لوگ بہت ہمدردی کے مستحق ہیں اور مقروض صاحبان کو اس قسم کے لوگوں کے قرضوں کی ادائیگی کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔کیونکہ اگر قارض اور مقروض دونوں برابر کے تنگدست ہوں تو اسلام اور دیانت دونوں کا یہ تقاضا ہے کہ اس تنگی کا بوجھ مقروض پر زیادہ پڑے اور قارض پر کم۔ورنہ مقروض شخص خدا