مضامین بشیر (جلد 2) — Page 410
مضامین بشیر ۴۱۰ کے سامنے کبھی بھی سرخرو نہیں سمجھا جا سکتا۔اور جہاں قرضہ دینے والا قرضہ لینے والے سے زیادہ تنگ دست ہو اور مقروض کی حالت نسبتاً بہتر ہو۔وہاں تو مقروض کا قرض کی ادائیگی سے رکے رہنا صریح ظلم میں داخل ہے۔گو یہ علیحدہ بات ہے کہ ادائیگی یکمشت نہ ہو بلکہ بالاقساط ہو۔(۵) میں نے ایک مخلصانہ تجویز کے رنگ میں یہ بات بھی پیش کی تھی کہ جہاں لوگ اپنی ضروریات کے لئے قرضہ لیتے ہیں۔وہاں ان کا فرض ہے کہ اپنے قارض کی تنگی کا خیال رکھتے ہوئے اس کا قرضہ اتارنے کے لیے بھی قرضہ لیں ورنہ یہ دیانت کے خلاف ہوگا کہ ایک شخص اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالنے کے لئے تو قرضہ لے مگر اپنے فاقہ کش قارض کا قرضہ اتارنے کے لئے اور اسے فاقہ سے بچانے کے لئے قرضہ نہ لے۔(۶) ایک آخری بات میں نے یہ کہی تھی کہ اگر کسی مقروض کے حالات واقعی مجبوری کے ہوں (اور خدا ہی جانتا ہے کہ حقیقی مجبوری کس کی ہے اور کس کی نہیں) کہ وہ کسی صورت میں بھی اپنے قرض خواہ کا قرضہ نہ ا تا رسکتا ہو تو اسے چاہیئے کہ کم از کم قارض کے مطالبہ پر خوش اخلاقی کے ساتھ ہی پیش آئے اور معذرت کر کے مہلت کا خواہاں ہو۔بلکہ اگر قرض خواہ کی طرف سے کسی قد رسختی کا اظہار بھی ہو تو اسے بھی صبر اور ضبط نفس کے ساتھ برداشت کرے کیونکہ یہی ہمارے پاک نبی کا مبارک اسوہ ہے۔پر وہ باتیں ہیں جو میں نے اپنے گزشتہ مضامین میں لکھی تھیں۔اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں نے خدا کے فضل سے کسی فریق کی ناوا جب پاسداری کا طریق اختیار نہیں کیا۔بلکہ اپنے علم کے مطابق اس معاملہ میں جو بھی اسلام کی تعلیم تھی وہ پوری پوری دیانتداری کے ساتھ پیش کر دی ہے۔وَاللهُ عَلَی مَا أَقُولُ شَهِيد بالآخر میں یہ بات بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے اپنے مضامین میں لکھا ہے ( جن کا خلاصہ اوپر درج کر دیا گیا ہے ) وہ میں نے محض اصولی طور پر لکھا ہے۔ورنہ انفرادی طور پر میں یہ نہیں جانتا اور نہیں کہہ سکتا کہ کس معاملہ میں قارض حق پر ہے اور کس میں مقروض۔ہوسکتا ہے کہ خدا کے نزدیک یا ان لوگوں کے نزدیک جنہیں انفرادی حالات کا صحیح علم ہے کسی کیس میں مقروض زیادہ حق پر ہو۔اور اس کے مقابلہ پر قارض اتنی ہمدری کا حقدار نہ ہو یا کسی کیس میں حالات اس کے الٹ ہوں۔بہر حال یہ ایسی باتیں ہیں کہ میں ان کے متعلق رائے لگانے کا حق نہیں رکھتا بلکہ صرف اصولی بات ہی کہہ سکتا ہوں جو میں نے کہہ دی ہے۔آگے ہر قارض اور ہر مقروض کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔وہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ دوسرے فریق کے ساتھ اس کا سلوک کہاں تک حق وانصاف پر مبنی ہے۔اور یا پھر ایسے فیصلہ کے لئے قضا کا رستہ کھلا