مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 408 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 408

مضامین بشیر ۴۰۸ قرضوں کی صفائی والے مضامین کے متعلق بعض ضروری تصریحات میں نے خدا کے فضل سے کسی فریق کی نا واجب پاسداری نہیں کی گزشتہ ایام میں میں نے مقروض دوستوں کو توجہ دلانے کے لئے بعض مضامین لکھے تھے اور دوسری طرف ان مضامین میں قرض خواہوں کو بھی ان کی بعض ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔میرے ان مضامین پر جہاں بہت سے دوستوں کی طرف سے شکریہ اور خوشی کے خطوط موصول ہوئے ہیں ، وہاں بعض مقروض احباب نے ان مضامین پر کسی قدر نا راضگی کا اظہار بھی کیا ہے کہ تم نے مقروض لوگوں پر زیادہ بوجھ ڈالا ہے۔حالانکہ جو لوگ لٹ لٹا کر آئے ہیں اور انہیں اس وقت اپنے قرضوں کے واپس ادا کرنے کی طاقت نہیں ہے ان پر ایسا نا واجب بو جھ نہیں ڈالنا چاہیے۔مگر سب سے زیادہ عجیب و غریب خط مجھے ایک ایسے مہربان کی طرف سے پہنچا ہے کہ جس نے اپنے خط کے شروع میں تو یہ لکھا ہے کہ آپ نے مضامین کو شائع کر کے قرضہ کی ادائیگی کا راستہ بند کیا ہے کھولا نہیں اور آخر میں یہ لکھا ہے کہ ” خدارا اس قسم کی اشتہار بازی ترک فرما دیں، وغیرہ وغیرہ۔۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں میرے مضامین بالکل صاف اور واضح تھے۔اور ان میں ہر دو فریق کے حقوق کا خیال رکھا گیا تھا۔مگر بہر حال یہ بھی ضروری تھا کہ جن جن حالات میں ہماری شریعت کسی فریق کا زیادہ خیال رکھتی ہے۔ان حالات میں اس فریق کا زیادہ خیال رکھا جائے۔حقوق کے معاملہ میں رعایت کرنا مومن کا شیوہ نہیں اور بچے مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرنے کے بغیر ہر حال میں حق بات اپنی زبان پر لائے اور حق راستہ پر گامزن ہوا اور خدا کے فضل سے ہمیں ایسی کامل و مکمل اور عدل و انصاف سے معمور شریعت ملی ہے کہ اس میں دوسرے لوگ تو الگ رہے مجرموں تک کے حقوق کو محفوظ کیا گیا ہے اور میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ کسی دوست کی دوستی یا کسی دشمن کی دشمنی مجھے صداقت اور دیانت کے راستہ سے منحرف کرنے میں کامیاب ہو۔میرے مضامین بالکل صاف تھے اور ہر شخص جس نے انہیں خالی الذہن ہو کر غور کے ساتھ پڑھا ہوگا۔وہ اس بات کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ان میں کسی فریق کی نا واجب رعایت نہیں کی گئی اور نہ ایک فریق کا حق چھین کر دوسرے فریق کو دیا گیا ہے۔ان مضامین کا خلاصہ ذیل کے چند فقروں میں