مضامین بشیر (جلد 2) — Page 407
۴۰۷ قادیان کی جائداد کے مقابلہ پر عاراضی الاٹمنٹ کرائی جاسکتی ہے مضامین بشیر شروع شروع میں قادیان سے آنے پر میں نے دوستوں کی اطلاع اور تحریک کے لئے یہ اعلان کیا تھا کہ جن دوستوں کی جائیداد قادیان یا مشرقی پنجاب کے کسی حصہ میں ضائع ہوئی ہے۔انہیں چاہیئے کہ اپنا نقصان رجسٹرار آف کیمز حکومت مغربی پنجاب لاہور کے دفتر میں رجسٹر کرا دیں اور اس کے ساتھ میں نے حضرت صاحب کے منشاء کے ماتحت یہ اعلان بھی کیا تھا کہ قادیان کی جائیداد کے مقابلہ پر کسی اور جائیداد کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے۔کیونکہ قادیان ہمارا مقدس مرکز ہے جس پر ہم اپنا حق کسی صورت میں چھوڑ نہیں سکتے۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ انشاء اللہ جلد یا بدیر خدا ہمیں قادیان واپس دلائے گا۔چنانچہ اس اعلان پر بہت سے دوستوں نے اپنے نقصان رجسٹر کرا دیئے۔اب جبکہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر شخص کو اس کی ضائع شدہ جائیداد کے مقابلہ اسی قدر یا اس ملتی جلتی زمین وغیرہ دی جائیگی۔گویا کھاتا وار الاٹمنٹ ہوگی اور اس غرض کے لئے لاہور میں ایک خاص فنانشل کمشنر سیٹلمنٹ اور اس کے ماتحت ہر ضلع میں ایک ایک سیٹلمنٹ افسر مقرر کر دیئے ہیں اور کئی دوست ابھی تک بغیر کسی معقول سہارے کے پڑے ہیں اس لئے بعض دوست پوچھتے ہیں کہ کیا ہم قادیان کی جائیداد کے مقابلہ پر پاکستان میں عارضی الاٹمنٹ کر اسکتے ہیں۔سو دوستوں کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ عارضی الاٹمنٹ میں کوئی ہرج نہیں بشرطیکہ درخواست میں صراحت کر دی جائے کہ چونکہ قادیان ہمارا مقدس مقام ہے جس پر ہم اپنا حق کسی صورت میں چھوڑ نہیں سکتے اس لئے ہم اس کے مقابلہ پر کوئی مستقل تبادلہ نہیں چاہتے بلکہ صرف عارضی الاٹمنٹ کا مطالبہ کرتے ہیں۔اسی طرح اپنی سابقہ آمد کے مقابلہ پر نقد الاٹمنٹ کا مطالبہ بھی کیا جاسکتا ہے جو کسٹوڈین جائیداد مترو کہ حکومت مغربی پنجاب لاہور یا اپنے ضلع کے ڈپٹی کسٹوڈین کے سامنے پیش ہونا چاہیئے۔خلاصہ یہ کہ عارضی الائمنٹ بصورت جائیداد کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔جو فنانشل کمشنر سیٹلمنٹ حکومتِ مغربی پنجاب لاہور یا اپنے ضلع کے سیٹلمنٹ افسر کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔الائمنٹ بصورت نقد کا مطالبہ کسٹوڈین جائیداد مترو که حکومت مغربی پنجاب لاہور یا اپنے ضلع کے ڈپٹی کسٹوڈین کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔( مطبوعه الفضل ۲۴ نومبر ۱۹۴۸ء)