مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 351 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 351

۳۵۱ مضامین بشیر ہوئے منزل مقصود پر لے آئے بعض اوقات درمیان میں ایسے نازک مواقع بھی آئے کہ جب دنیا نے انہیں بظاہر سمجھوتے کی طرف مائل ہوتے ہوئے محسوس کیا اور گو وقتی حالات کے ماتحت وقتی سمجھوتے قابل اعتراض نہیں ہوتے مگر بعد کے حالات نے بتا دیا کہ یہ صرف دشمن کے ساتھ گفت دشنید کا ایک حکیمانہ انداز تھا اور یہ کہ آخری مقصد کو کسی حالت میں بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق دہلی کے مشہور اخبار ہندوستان ٹائمنز نے مسٹر جناح کی وفات پر تبصرہ کرتے ہی یہ الفاظ لکھے ہیں کہ مسٹر جناح نے دنیا کے سب سے بڑے سیاستدان ( غالباً پنڈت نہرو کی طرف اشارہ ہے یا شاید مسٹر گاندھی مراد ہوں ) کے ساتھ زور آزمائی کی اور اس مقابلہ میں فتح پائی۔قائد اعظم محمد علی جناح کا تیسرا نمایاں وصف ہر قسم کی پارٹی بندی سے بالا ہو کر غیر جانبدارانہ انصاف پر قائم رہنا تھا۔یہ وصف بھی قومی ترقی اور ملکی استحکام کے لئے نہایت ضروری چیز ہے اور پاکستان کے سب سے پہلے گورنر جنرل نے اس معاملہ میں بہترین مثال قائم کر کے پاکستان کی حکومت کے لئے ایک دائمی مشعل راہ پیدا کر دی ہے۔قائد اعظم کے نزدیک پاکستان کے شیعہ اور سنی ، احمدی اور اہل حدیث ، پارسی اور عیسائی اور پھر نام نہاد چھوت اور غیر ا چھوت سب ایک تھے اور ان کے لئے صرف یہی ایک معیار قابل لحاظ تھا کہ ایک شخص کام کا اہل ہو اور یہ وہی زریں معیار ہے جس کی طرف قرآن شریف نے ان مبارک الفاظ میں توجہ دلائی ہے کہ: إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ یعنی اے مسلمانو خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ چونکہ حکومت کے عہد ہے ایک ملکی امانت ہیں۔پس تم ہمیشہ اس امانت کو اہل لوگوں کے سپرد کیا کرو خواہ وہ کوئی ہوں اور پھر جو شخص کسی عہدہ پر مقرر ہو اس کا فرض ہے کہ سب لوگوں کے درمیان کامل عدل کا معاملہ کرے۔مرنے والے لیڈر میں خوبیاں تو بہت تھیں مگر میں اس جگہ صرف ان تین بنیادی خوبیوں کے ذکر پر ہی اکتفا کرتا ہوں یعنی اتحاد و تنظیم ، عزم و استقلال اور غیر جانب دارانہ انصاف ، اور میں پاکستان کے مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان خوبیوں کو اپنا مشعلِ راہ بنا ئیں۔کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح کی یہی بہترین یادگار ہو سکتی ہے کہ ان کے نیک اوصاف کو زندہ رکھا جائے۔اور دراصل دنیا میں و ہی شخص زندہ رہتا ہے جس کی قوم اس کی یاد کو زندہ رکھتی ہے۔( مطبوعه الفضل ۶ ار ستمبر ۱۹۴۸ء)