مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 350 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 350

مضامین بشیر ۳۵۰ میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی مشیت نے قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی اسی رنگ میں اپنی خاص نصرت سے نوازا اور ان کے ذریعہ اس بر عظیم کے مسلمانوں کا سیاسی شیرازہ غیر معمولی رنگ میں متحد کر دیا۔قائد اعظم میں بہت سی خوبیاں تھیں مگر ان کا جو کام سب سے زیادہ نمایاں ہو کر نظر آتا ہے وہ یقیناً یہی ہے کہ ان کے ذریعہ مسلمانان ہندوستان (میری مراد تقسیم سے پہلے کا ہندوستان ہے۔) اپنے سیاسی اتحاد کی لڑی میں پروئے گئے جو اس سے پہلے بالکل مفقود تھا۔لوگ کہتے ہیں کہ قائد اعظم کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کا وجود ہے۔میں کہتا ہوں کہ بیشک پاکستان کا وجود ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جو غالباً دنیائے سیاست میں عدیم المثال سمجھا جا سکتا ہے۔مگر میری نگاہ قائد اعظم محمد علی جناح کے اس کا رنامہ کی طرف زیادہ اٹھتی ہے جو خود تو پاکستان نہیں مگر پاکستان کو وجود میں لانے کا سب سے بڑا بلکہ ظاہری اسباب کے لحاظ سے گویا واحد ذریعہ ہے۔میری مراد مسلمانوں کا سیاسی اتحاد ہے جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اتحاد میں وہ برکت اور وہ طاقت ہے جو دنیا کی اور کسی چیز کو حاصل نہیں۔قائد اعظم سے پہلے ہندوستان کے مسلمان سیاسی لحاظ سے ایک منتشر گلہ کی صورت میں تھے۔جس کی بھیڑیں دو دو چار چار کی ٹولیوں میں اِدھر اُدھر پھرتی ہوئی جنگل کے بھیڑیوں کا شکار ہو رہی تھیں اور جو چاہتا ان کی جس ٹولی کو پکڑ کر اپنے پیچھے یا کسی دوسرے کے پیچھے لگا لیتا تھا اور اس طرح مسلمانوں کے سواد اعظم کا سارا زور آپس کے تفرقہ اور انشقاق کی نذر ہورہا تھا اور اسلام کا ہوشیار دشمن مسلمانوں کی اس کمزوری سے پورا پورا فائدہ اٹھانے میں مصروف تھا۔مگر خدا نے ہاں ہمارے علیم وقد بر خدا نے محمد علی جناح کو یہ توفیق عطا کی کہ اس کے ذریعہ ہندوستان کے پچانوے فی صدی مسلمان سیاسی اتحاد کی لڑی میں پروئے گئے۔اور جب یہ اتحاد قائم ہوگیا تو پھر اس اتحاد کا وہ لازمی اور طبعی نتیجہ بھی فور ا ظہور میں آگیا جو ازل سے مقدر تھا یعنی دشمن نے ہتھیار ڈال کے مسلمانوں کے متحدہ مطالبہ کو مان لیا۔کیونکہ دس کروڑ کی قوم کے متحدہ مطالبہ کور دکرنا دنیا کی کسی طاقت کے اختیار میں نہیں ہے۔پس میں قائد اعظم کے کارناموں میں مسلمانوں کے سیاسی اتحاد کو نمبر پر رکھونگا اور پاکستان کے وجود کو نمبر ۲ پر اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر عقلمند شخص میرے اس نظریہ سے اتفاق کرے گا۔مسلمانوں کے سیاسی اتحاد اور پاکستان کے وجود کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کا سب سے بڑا کام اور سب سے بڑا وصف ان کا عزم اور استقلال تھا۔دنیا جانتی ہے کہ ان کے رستہ میں بعض اوقات ایسی ایسی مشکلات آئیں کہ وہ اکثر انسانوں کو بے دل کرنے اور ہمت ہار کر سمجھوتہ کر لینے پر مجبور کر دیتی ہیں مگر قائد اعظم محمد علی جناح ہمیشہ ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی جگہ پر قائم رہے اور مسلمانوں کی کشتی کو نہایت عزم اور استقلال کے ساتھ چلاتے اور اردگرد کی چٹانوں سے بچاتے