مضامین بشیر (جلد 2) — Page 349
۳۴۹ مضامین بشیر قائد اعظم محمد علی جناح كُلَّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کی اچانک اور المناک وفات کی خبر ساری دنیا میں پہنچ کر مرنے والے لیڈر کے لئے جسے قائد اعظم کا خطاب ملا تھا، خراج تحسین و عقیدت حاصل کر چکی ہے۔جیسا کہ قرآنی آیت مندرجہ عنوان میں بتایا گیا ہے۔خدا کے سوا دنیا کی ہر چیز فانی ہے البتہ وہ چیز جسے خدا نے اپنی خاص توجہ سے دائی بقا کے لئے چن لیا ہو وہ ضرور باقی رہتی اور خدا کے قیوم ہونے کا عملی ثبوت مہیا کرتی ہے۔اس اصول کے ماتحت انسان کا مادی جسم فانی قرار دیا گیا ہے اور اس کی روح ہمیشہ کی زندگی پانے والی قرار پائی ہے۔پس گو قائد اعظم کا جسم خاکی سپر د خاک ہو کر اپنے دنیوی دور زندگی کو ہمیشہ کے لئے ختم کر چکا ہے مگر ان کی روح اپنے اچھے اور شاندار اعمال کے ساتھ زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔میرا احساس ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ دنیا کی دینی اور روحانی حیات اور ترقی کے لئے انبیاء و مرسلین کا وجود پیدا کرتا رہتا ہے۔اسی طرح وہ بعض اوقات دنیا کی مادی اور قومی اور سیاسی اور علمی ترقی کے لئے بھی بعض خاص خاص وجود پیدا کرتا ہے۔کیونکہ گوانسانی زندگی کا اصل مقصد خدا کا تعلق ہے مگر اس بات میں کیا شک ہے کہ اس تعلق سے اتر کر دنیا کی مادی اور علمی ترقی بھی خدا کی توجہ کے دائرہ سے باہر نہیں سمجھی جاسکتی۔ظاہر ہے کہ جب دین کے علاوہ خدا نے اس دنیا کے تمام مفید شعبوں کو بھی چلانا اور ترقی دینا ہے تو پھر اس کی نصرت کا دائرہ صرف اُخروی امور تک ہی محدود نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ خدا اپنی بار یک در بار یک حکیمانہ قدرت سے ہر دنیوی میدان کی ترقی کے لئے بھی سامان پیدا فرماتا ہے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کی بہت سی مفید ایجاد یں بھی ایک رنگ کے غیبی القاء اور خدائی نصرت کے ماتحت وقوع میں آئی ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ نہ صرف مخصوص دینی اور روحانی میدان میں بلکہ ہر قسم کے میدان میں جو بنی نوع انسان کے لئے مفید ہو، اپنے بعض بندوں کی نصرت فرما کر انسانیت کی ترقی کا سامان پیدا کرتا ہے۔اور یقیناً اس کی یہ سنت مسلمانوں کے ساتھ زیادہ مخصوص ہے۔کیونکہ وہ اس کے محبوب رسول اور اولین و آخرین کے سردار کی طرف منسوب ہونے والی قوم ہے۔