مضامین بشیر (جلد 2) — Page 299
۲۹۹ مضامین بشیر اندرونی جھٹکا لگا کرتا تھا اور میری روح ایک قسم کی ٹھو کر محسوس کرتی تھی۔لیکن ساتھ ہی میرا دل اس یقین سے بھی پر تھا کہ یہ خدا کی سکھائی ہوئی دعا ہے اور ضرور اس میں کوئی خاص حکمت مد نظر ہوگی جو ممکن ہے کئی لوگوں پر ظاہر بھی ہو اور انشاء اللہ مجھ پر بھی کسی دن ظاہر ہو جائے گی۔آخر کچھ عرصہ ہوا خدا نے مجھے بھی اس کی حکمت پر آگاہ فرما دیا اور اب مجھے خدا کے فضل سے اس تشریح پر جو میرے ذہن میں آئی ہے پوری تسلی ہے۔میرا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ درود میں حضرت ابراہیم کا نام شامل کرنے میں صرف وہی حکمت مدنظر ہے جو میرے خیال میں آئی ہے۔خدا بلکہ رسول کے کلام میں بھی بڑی وسعت ہوتی ہے اور بسا اوقات ایک ہی وقت میں کئی کئی معنے مدنظر ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ جو تشریح میرے ذہن میں آئی ہے، اس سے بھی بڑھ کر کوئی اور حکمت درود میں مخفی ہو۔مگر اب کم از کم مجھے اپنی جگہ یہ تسلی ضرور ہے کہ جو معنے میرے خیال میں آئے ہیں وہ خدا کے فضل سے نہ صرف درست ہیں بلکہ میرے ذوق کے مطابق لطیف بھی ہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔میں یہ معنے دوستوں کی اطلاع کے لئے درج ذیل کرتا ہوں۔دوستوں کو یہ تو علم ہی ہے اور دراصل یہ بات اسلامی تاریخ کا ایک مشہور و معروف واقعہ ہے جسے مسلمان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابرا ہیم کی نسل سے ہیں جو حضرت اسمعیل کے ذریعہ عرب میں آباد ہوئی اور یہ کہ کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے مبارک ہاتھوں سے ہی ہوئی تھی۔جس کا ایک ایک پتھر ان مقدس باپ بیٹوں کی ہزاروں دعاؤں کے ساتھ رکھا گیا۔اور انہوں نے اس موقع پر یہ دعا بھی کی کہ ان کی نسل سے ہمیشہ خدا کے پاک بندے پیدا ہوتے رہیں جن کی توجہ خدا کے دین کے لئے وقف ہو۔اس موقع پر حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل نے وہ خاص الخاص دعا بھی کی ، جس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود با جو د ظہور میں آیا۔چنانچہ قرآن شریف اس تاریخی دعا کوان زور دار الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۸۲ یعنی اے ہمارے رب تو ہماری اس نسل میں جواب اس ملک میں پھیلے گی۔اور تیرے اس مقدس گھر کے ارد گرد آباد ہوگی۔ایک عالی شان رسول انہی میں سے مبعوث فرما۔جو انہیں تیری مبارک آیات پڑھ کر سنائے۔اور انہیں تیری کتاب کی تعلیم دے اور پھر اس کتاب کے احکام کی حکمت بھی سکھا دے اور انہیں اپنے پاک نمونہ کی برکت سے ایک ترقی یافتہ زندگی عطا کرے۔یقینا تو بڑی شان والا اور بڑی حکمت والا خدا ہے۔اس دعا کے الفاظ بڑے بھاری فضائل پر مشتمل ہیں۔مگر مجھے اس جگہ اس دعا کی تفسیر اور تشریح