مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 300 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 300

مضامین بشیر ۳۰۰ میں جانا مد نظر نہیں بلکہ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت ابراھیم اور حضرت اسمعیل نے کعبہ کی تعمیر کے وقت مکہ والوں میں ایک ایسے خاص نبی کی بعثت کی دعا کی تھی جو اپنے روحانی اور علمی اور تربیتی پروگرام کے ساتھ بے مثل امتیاز کا مالک بننے والا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں فرماتے ہیں کہ میری بعثت اسی دعا کا نتیجہ ہے۔چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں :۔انا دعوة ابراهيم۔۔۔۔۔۔۔۱۸۳ د یعنی میں ابراھیم کی دعا کا ثمرہ ہوں“ اب گویا تین باتیں ہمارے ہاتھ میں ہیں۔( اول ) یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابرا ہیم کی نسل سے ہیں۔( دوم ) یہ کہ حضرت ابراھیم نے کعبہ کی تعمیر کے وقت مکہ والوں میں ایک عظیم الشان رسول کی بعثت کی دعا کی تھی۔( سوم ) یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اسی دعا کا نتیجہ تھی۔اب اگر ہم ان تین باتوں کو مد نظر رکھ کر درود کے الفاظ پر غور کریں تو بات بالکل صاف ہو جاتی ہے اور :۔درود میں کما صليت على ابراهيم يا كما باركت على ابراهیم کے الفاظ نہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کسی قسم کی کمی کے مظہر ثابت نہیں ہوتے بلکہ حقیقتاً اس بات کا ثبوت مہیا کرتے ہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع شان اور آپ کی امت کی غیر معمولی ترقیات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے درود میں داخل کئے گئے ہیں۔بات یہ ہے کہ یہ الفاظ کہ کما صليت على ابراهيم محمد رسول اللہ ﷺ پر اسی طرح کی برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم پر نازل کیں ) اس غرض کے لئے رکھے گئے ہیں کہ تا حضرت ابراھیم کی اس خصو صیت کی طرف اشارہ کیا جائے جو ان کی تعمیر کعبہ کے وقت کی دعا اور اس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تعلق رکھتی ہے۔اور مقصد یہ ہے کہ اے خدا! جس طرح تو نے ابراہیم کی دعا سے ابراھیم کی نسل میں ایک عظیم الشان نبی پیدا کیا۔اسی طرح اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں بھی غیر معمولی روحانی کمالات کا سلسلہ جاری رکھ۔اس طرح درود میں ایک نہایت ہی لطیف اور مقدس دور یعنی پائیس سرکل (Pious Circle) قائم کر دیا گیا ہے۔اور خدا کے دامنِ رحمت کو اس دعا سے حرکت میں لایا گیا ہے کہ اے خدا تو محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اسی طرح کی خاص برکات نازل فرما جس طرح تو نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعہ ابراھیم پر اپنی خاص برکات نازل فرمائیں۔گویا کما صلیت علی ابراهیم میں جو مثال دی گئی ہے وہ بھی دراصل